بلوچستان کے علاقے چاغی میں پاکستانی فوج نے فائرنگ کرکے ایک 17 سالہ بلوچ نوجوان کو قتل کردیا۔
اس قتل عام کی روداد بلوچ یکجہتی کمیٹی چاغی نے اپنے ایک بیان کی شکل میں جاری کرتے ہوئےکہا کہ بلوچ نسل کشی سرعام ہورہا ہے ۔
بیان میں کہا گیاکہ ایران اور پاکستان کی بارڈر راجئے روتک میں پاکستانی فوجیوں کی فائرنگ سے ایک 17 سالہ بلوچ نوجوان دم توڑ گیا۔
انہوں نے کہا کہ آج بروز اتوار کو میرجاوہ شہر کے سرحدی علاقے روتک میں ایک بلوچ نوجوان پاکستانی بارڈر گارڈ ( ملیشا) کی براہ راست گولی لگنے سے زخمی ہوا اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ اس بلوچ شہری کی شناخت طہٰ زابدزہی (شاہنوازئی) ولد رحیم سے ہوئی ہے جوخاش شہر کا رہائشی ہے۔
انہوںنے کہا کہ فاتحون ذرائع کے مطابق آج دوپہر تقریباً 12:00 بجے سرحدی محافظ دستوں (ملیشیا) نے طہٰ کے سر میں سیدھی گولی ماری، اور وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
بلوچ نوجوان کی قتل پر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں لکھا کہ چاغی میں ایف سی کے فائرنگ سے ایک سترہ سالہ نوجوان طہٰ زابدزئی شہید، بلوچستان میں عوام کو روزگار کرنے کے حقوق بھی حاصل نہیں ہیں، اور اس درندگی کے خلاف بولنے والوں کو ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔