بلوچستان کے علاقے نوکنڈی میں نوکنڈی تحریک اتحاد نوجوانان کے کال پر ریکودک پروجیکٹ میں ملازمتوں پر مقامی بلوچ نوجوانوں کو نظرانداز کرنے اور بلوچستان سے باہر لوگوں کو ملازمتوں کی فراہمی کے خلاف آج بروزاتوار کو مکمل شٹر ڈوان ہڑتال رہی۔
انجمن تاجران کے تعاون سے نوکنڈی میں تمام دکانیں بند رہیں۔
اس موقع پر نوکنڈی کے نوجوانوں نے سردار زادہ فرید ایجباڑی، جہانگیر بلوچ، شبیراحمدسنجرانی ،افتخار بنگلزئی، شیخ عتیق الرحمن بلوچ، نا صرشیرزئی ودیگرکی قیادت میں بازار میں ایک ریلی بھی نکالی اور ریکودک پروجیکٹ کے منیجمنٹ کے خلاف سخت نعرے بازی کی ۔
نوکنڈی کے نوجوانوں کا کہناتھاکہ بارڈرز کی بندش سے ہزاروں نوجوان بیروزگار ہیں سیندک پروجیکٹ کے بعد اب ریکودک پروجیکٹ میں مقامی نوجوانوں کے لئے اہم آسامیوں پر ملازمتوں کے دروازے بند کردی گئی ہے صرف چند ڈرائیورز لیبر کے آسامیوں پر مقامی لوگوں کو تعینات کرکے کمپنی منیجمنٹ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک رہی ہے کہ یہاں اکثریت مقامی لوگوں کی ہے جبکہ کمیونٹی ڈیپارٹمنٹ کے علاوہ باقی اہم پوسٹوں پر سندھ اور پنجاب سے تیزی کے ساتھ بھرتیاں جاری ہے۔ اسی طرح پرچیزنگ وغیرہ میں بھی باہر کے لوگوں کو نوازا جارہاہے۔
ان کاکہنا تھا کہ ایچ آر ڈیپارٹمنٹ کراچی اور کوئٹہ میں ہونے کا کوئی قانونی جواز نہیں جبکہ سونا اور چاندی کوئٹہ اور کراچی سے سینکڑوں میل دور ریکودک چاغی سے نکالا جائیگا اور یہاں بھرتیاں نام نہاد آن لائن سسٹم کے تحت کراچی اور کوئٹہ کے دفاتر میں موجود غیربلوچ لابی لینگے جنھوں نے ہمیشہ آن لائن اپلائی کرنے والے مقامی اور بلوچ نوجوانوں کو شارٹ لسٹ تک گوارا نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ کئی بار کمپنی منیجمنٹ کو اس حوالے سے شکایات درج کئے مگر جھوٹی طفل تسلیوں کے علاوہ کچھ بھی عمل نہیں ہوا اس لئے اب ہم مجبور ہوکر میدان میں نکلے ہیں اور آگے ہمارا احتجاج مزید شدت اختیار کرے گی جب تک ایچ آر ڈیپارٹمنٹ چاغی شفٹ نہیں ہوتا اور مقامی نوجوانوں کے لئے آن لائن سسٹم ختم نہیں ہوتا اور ہمارے نوجوانوں کو اہم پوزیشنز پر جاب نہیں ملتا۔