پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں بلوچ نسل کشی کیخلاف جاری احتجاجی دھرنا مظاہرین سے اظہار یکجہتی کیلئے بلوچستان بھر اورپاکستان کے کئی علاقوں میں شٹرڈائون ہڑتال جاری ہے ۔
ہڑتال کی کال بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے دی گئی ہے ۔
اسلام آباد میں بلوچ مظاہرین سے اظہار یکجہتی کیلئے پورے بلوچستان میں شٹرڈائون ہڑتال کی وجہ سے کاروباری مراکز مکمل طور پر بند ہیں اور بلوچستان مکمل طور پر سراپا احتجاج ہے۔
جبکہ وندر اورماشکیل میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں اور مظاہرے کیے گیے۔
سنگر نیوز ڈیسک کو اب تک ملنے والی اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے شہرتربت،ماشکیل،گوادر ،آوارن،گڈانی،چاغی، حب،خضدار، نوشکی ، دالبندین ، بسیمہ ،تمپ ،بلیدہ،واشک،قلات،نال،سوراب،نصیر آباد، ڈیرہ مراد جمالی،زہری و دیگر علاقوں میں مکمل شٹر ڈائون ہڑتال ہے اور کاروبار ی مراکز بند ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کے بلوچ علاقوں داجل راجن پور،ملیرکراچی اورتونسہ شریف میں بھی بلوچ یکجہتی کمیٹی کی کال پر مکمل شٹرڈائون ہڑتال ہے۔
بلوچ حلقوںکا کہنا ہےکہ یہ شٹر بلوچ قوم کا پچھلے 70 سالوں سے ہونے والے ریاستی جبر اور مظالم کے خلاف ریفرنڈم ہے۔ ریاست نے دھمکیوں، پروفائلنگ، ایذا رسانی اور تشدد کے ذریعے اس تحریک کو سبوتاژ کرنے کی پوری کوشش کی ہے لیکن ہم بحیثیت قوم بلوچ نسل کشی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیںاوراس مشکل وقت میں وہ بلوچ قوم اور اپنی بہنوں کے ساتھ کھڑی ہیں۔
بلوچ حلقوں کا کہنا تھا کہ پاکستان بھر اور بالخصوص بلوچستان میں جاری شٹر ڈاؤن ہڑتال ریاست کیلئے پیغام ہے کہ وہ اپنی چالبازیوں سے باز آکر بلوچ نسل کشی کے خلاف جاری تحریک کے مطالبات کو سنجیدگی سے لیں۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ بلوچستان میں شٹر ڈائون ہڑتال کیلئے کاروباری حضرات نے رضاکارانہ و اظہار یکجہتی کیلئے تحریک سے اپنی وابستگی کومضبوط کرنے کیلئے اپنے کاروبار بار بند کرکے بلوچ نسل کشی کیخلاف جاری تحریک کے ساتھ کھڑے رہنے کا عزم کیا ہے ۔
واضع رہے کہ گذشتہ روز اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے باہر شدید سردی میں احتجاج کرنے والے بلوچ مظاہرین نے حکومت کو دیے گئے7 دن کے الٹی میٹم کی میعاد ختم ہونے کے بعد پاکستان وبلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن مظاہرے کی کال دی تھی اور آج سہ پہر 3 بجے ایک پریس کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کیا تھا۔
اسلام آباد میں پر امن بلوچ مظاہرین پر ریاست کی جانب سے زمین تنگ کی گئی ہے ۔خوراک ، کمبل ، ٹینٹ و دیگر اشیائے ضرورت کو کیمپ کے اندر لے جانے پر پابندی لگاگئی ہے اور خواتین و بچے اور بوڑھے لوگ یخ بستہ سردی میں کھلے آسمان تلے سونے پر مجبور ہیں۔
پورے کیمپ کو چاروں اطراف سے پولیس اور خفیہ اداروں نےمحاصرے میں لیا ہوا ہے اورریاست کی کوشش ہے کہ انہیں اشتعال دلا کر ان پر تشدد کرکے دھرنا کیمپ کو ختم کیا جائے۔