افغانستان : باغی گروپوں کا نومبر میں50 طالبان اہلکارو فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

افغانستان میں دو باغی گروپوں نے نومبر کے دوران کم از کم 50 طالبان اہلکاروں اور فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان گروپوں میں بنیادی طور پر سابق حکومتی اور فوجی اہلکار شامل ہیں۔

ملک کے شمال اور شمال مشرق میں حملے کے بعد فرار ہونے والے گروپ ارکان کی یہ شورش سب سے زیادہ فعال رہی ہے ۔

ان علاقوں میں طالبان کو 1996 سے 2001 تک اپنے سابقہ دور میں نمایاں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شائع کیے گئے دری اور انگریزی میں مختصر بیانات میں افغانستان فریڈم فرنٹ اور نیشنل ریزسٹنس فرنٹ آف افغانستان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے جنگجو طالبان کے ارکان کو چوکیوں، فوجی اڈوں اور یہاں تک کہ شاہراہوں پر بھی باقاعدگی سے نشانہ بناتے ہیں۔

طالبان نے دوسری جانب مسلح شورش کی اہمیت کو کم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پورے ملک میں امن و سکون مکمل طور پر بحال ہو گیا ہے۔

طالبان کے دور حکومت میں افغان میڈیا بری طرح متاثر ہوا ہے جس کی وجہ سے درست معلومات تک رسائی اور باغی گروپوں کے دعوؤں کی تصدیق کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

طالبان کے خلاف عسکری اور سیاسی مہموں کی وکالت کرنے والے بعض سابق افغان فوجی عہدیداروں نے امریکہ میں حال ہی میں افغانستان کے یونائیٹڈ فرنٹ کا دفتر کھولا ہے اور اپنے دفتر کی عمارت پر سابق افغان جھنڈا لہرا دیا۔

ایک سابق افغان جنرل اور یونائیٹڈ فرنٹ کے رہنما سمیع سادات نے امریکی ایوان کی سماعت میں گزشتہ ماہ بتایا کہ ’’ہمیں آپ کی جانب سے کچھ مدد درکار ہے ۔ ہم دوبارہ شراکت داری کے لیے تیار ہیں اور ہم عظیم قربانی کے لیے بھی تیار ہیں۔‘‘

Leave a Comment