بلوچستان کے علاقے نوکنڈی میں تین مہینے سے تنخوائوں سے محروم ریلوے ورکرز نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔
ملازمین نے کہا کہ گزشتہ تین مہینوں سے ریلوے ملازمین کی تنخواہیں صحیح طریقہ سے نہیں دی جارہی۔ ماہ نومبر آدھا گزر جانے کے باوجود تاحال تنخواہیں نہ ملنا مزدور طبقہ کے ساتھ ظلم وناانصافی ہے ہم ملازمین تفتان سے لیکر دالبندین تک سخت سردی وگرمی اور طوفانوں میں بغیر پانی کے پیاس اور بھوک میں ڈیوٹی دے رہے ہیں ستم یہاں تک روزانہ ہم نوکنڈی سے مختلف اسٹیشنزتک جانے کے لئے کرایہ اپنے جیب سے اداکرتے ہیں مگر ہماری تنخوائیں چالیس پچاس دنوں بعد ہمیں مل رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس مہینہ کی تنخواہوں کے بارے ریلوے آفیسران کے مطابق نوکنڈی نیشنل بینک منتقل کردی گئی ہے اب ہمیں معلوم نہیں کہ ہماری تنخوائیں بینک سے دیر دی جارہی ہے یا محکمہ ریلوے کی جانب سے دالبندین کے ملازمین کو ایک تاریخ کو تنخوائیں تواتر کے ساتھ مل رہی ہے مگر نوکنڈی کے ملازمین کو پندرہ بیس دنوں بعد تنخوائیں کیوں لیٹ دی جاتی ہے۔
ملازمین کایہ بھی کہنا تھا کہ کنٹریکٹ پر بھرتی ملازمین کے گذشتہ تین مہینوں کی تنخوائیں بھی تاحال نہیں ملے ہیں جس سے ملازمین کے گھروں میں چولہے بجھ گئے ہیں۔
ملازمین نے ریلوے کے بالا حکام سے مطالبہ کیاکہ نوکنڈی ریلوے ملازمین کی تنخواہوں کو ہرمہینہ لیٹ کرنے کانوٹس لیکر ہماری تنخوائیں سابقہ ادوار کی طرح مہینہ ختم ہونے سےدودن پہلے ادا کی جائے اور بروقت ادائیگی کی جائے تاکہ ہم اپنے بچوں کے پیٹ بھرسکیں بصورت دیگر مجبورا تنگ آمد بجنگ آمدکے مصداق ہم احتجاجا کسی بھی ٹرین کو نوکنڈی میں روک کر آگے جانے نہیں دیں گے۔