نسل پرستی کے خاتمے کیلئے اقوام متحدہ کا امریکی عدالتی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نے جمعرات کو ایک رپورٹ پیش کی ہے جس میں انسانی حقوق کے ماہرین نے امریکہ کےکرمنل جسٹس سسٹم میں فوری اصلاحات کی اپیل کی ہے تاکہ اس مسئلے کا مقابلہ کیا جائے جسے وہ افریقی نژاد امریکیوں کے خلاف منظم نسل پرستی قرار دیتے ہیں ۔

32 صفحات کی رپورٹ کےمطابق امریکہ میں نسل پرستی ،جو عشروں کی غلامی اور غلاموں کی تجارت کی میراث ہے اب بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سےنسل کی بنیاد پرلوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک ، پولیس کےہاتھوں ہونے والی ہلاکتوں اور انسانی حقوق کی دوسری خلاف ورزیوں کی شکل میں موجود ہے ۔

اقوام متحدہ کی ایک غیر جانبدار ماہر ، Tracie Keesee نے کونسل کو بتایا کہ ،ہم نے امریکہ کے کرمنل نظام انصاف میں افریقی نژاد امریکیوں کی غیر متناسب نمائندگی دیکھی ہے۔

ٹریسی کیسی ،نفاذ قانون کے حوالے سے نسلی انصاف اور مساوات کے فروغ کے ایک ادارے ، انٹر نیشنل انڈیپینڈینس ایکسپرٹ میکنزم کے تین ارکان میں سے ایک ہیں ۔ یہ میکنزم کونسل نے افریقی امریکی شہری جارج فلائیڈ کے قتل کے بعد قائم کیا تھا جو مئی 2020 میں منی سوٹا میں پولیس افسروں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے تھے ۔

میکنزم کی رپورٹ منظم نسل پرستی کی اصل وجوہات کی چھان بین کے لیے تفتیش کاروں کے اپریل اور مئی میں امریکہ کے چھ بڑے شہروں کے ایک بارہ روزہ دورے کی بنیاد پر ترتیب دی گئی ہے ۔ انہوں نے پانچ حراستی مراکز کا دورہ کیا ، عہدے داروں اور سول سوسائٹی کے گروپس سے ملاقات کی اور 133 متاثرہ افرادسے براہ راست انٹر ویوز کیے۔

کیسی نے اس سنگین مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان اعداد و شمار اور حالات کو دیکھ کر پریشان ہو گئے جن میں افریقی نژادامریکیوں کی ایک غیر متناسب تعداد پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہو رہی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہر سال ملک بھر میں 1000 سے زیادہ افراد مبینہ طور پر قانون نافذ کرنےوالے اداروں کے ہاتھوں ہلاک ہوتے ہیں ۔ دستیاب اعدادو شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہونےوالے سیاہ فام لوگوں کی تعداد سفید فام لوگوں کی نسبت تین گنا زیادہ تھی۔اور ان کےگرفتار کیے جانے کا امکان 4 اعشاریہ 5 فیصد زیادہ تھا۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment