پاکستان کا افغانستان سے ٹی ٹی پی کو لگام دینے کا مطالبہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read
فوٹو : آئی ایس پی آر

تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی)نے گذشتہ دنوں چترال میں پاکستانی فوج کی چوکیوں پرحملہ و قبضے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے ۔

ٹی ٹی پی نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کر تے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ چترال میں دو فوجی چوکیوں پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔ تاہم پاکستانی طالبان کے ان دعوؤں کی بھی ابھی تک تصدیق نہیں ہو پائی ہے۔

دوسری جانب پاکستان نے کابل حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اُن عسکریت پسندوں کو لگام ڈالے، جو مبینہ طور پر سرحد پار سے پاکستان میں حملے کر رہے ہیں اور جن کے خفیہ ٹھکانے افغانستان میں ہیں۔

پاکستانی فوج نے بتایا ہے کہ بدھ کو درجنوں عسکریت پسندوں نے شمالی علاقے چترال میں سرحدی چوکیوں پر حملہ کیا، جس میں چار فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ اسلام آباد نے کہا ہے کہ عسکریت پسندوں کا تعلق پاکستانی طالبان سے ہے اور ان کے حملوں کی منصوبہ بندی افغانستان کے کُنڑ اور نورستان صوبوں میں کی گئی تھی۔

پاکستانی فوج نے یہ بھی کہا ہے کہ عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کے بارے میں افغانستان کی حکومت کو بروقت آگاہ کر دیا گیا تھا۔

فوج کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق پاکستانی کمانڈوز نے پہاڑی علاقے میں کئی گھنٹوں کی لڑائی کے بعد ان حملوں کو پسپا کر دیا، جن میں کم از کم بارہ عسکریت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم آزاد ذرائع سے ان فوجی دعوؤں کی ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

جمعرات کو پاکستانی فوج کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے،پاکستان توقع کرتا ہے کہ افغان حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی اور دہشت گردوں کو افغان سرزمین کے استعمال سے روکے گی۔‘‘

چترال میں عسکریت پسندوں کے حملے اس واقعے کے چند گھنٹوں بعد ہوئے، جس میں پاک افغان سرحد پر پاکستانی فوجیوں اور افغان طالبان کے مابین فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا۔

Share This Article
Leave a Comment