جرمنی کی اتحادی حکومت میں شامل جماعت ایس پی ڈی کے پارلیمانی سربراہ نے کہا ہے کہ امریکا جرمن سرزمین پر نصب جوہری ہتھیار ہٹائے۔ تاہم دیگر جماعتوں نے بدستور اس کی مخالفت کی ہے۔
جرمن کی دوسری سب سے بڑی سیاسی جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (ایس پی ڈی) کے پارلیمانی سربراہ رالف مو¿ٹزینش کے بقول جرمن سرزمین پر امریکی جوہری ہتھیار، جرمنی کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور اسی لیے انہیں ہٹایا جانا چاہیے۔
ایس پی ڈی وفاقی حکومت میں چانسلر انگیلا میرکل کی جماعت سی ڈی یو کی اتحادی ہے۔ رالف مو¿ٹزینش نے جرمن اخبار ‘ٹاگس اشپیگل ام زونٹاگ‘ کو بتایا، ”جرمن سرزمین پر جوہری ہتھیار ہماری سلامتی کو بڑھاتے نہیں، بلکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔“ ان کا مزید کہنا تھا، ”اب وقت آ گیا ہے کہ جرمنی مستقبل میں ان کی تنصیب کی اجازت نہ دے۔“ مو¿ٹزینش کے بقول اس طرح کی پیشرفت سے جرمنی کی مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی رکنیت پر کوئی سوال نہیں اٹھے گا۔
جرمن پارلیمان میں ایس پی ڈی کے پارلیمانی سربراہ نے اپنے اس مطالبے کی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور اقتدار میں امریکا کی بدلتی ہوئی جوہری پالیسی کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظام?ہ جوہری ہتھیاروں کو محض دفاعی ہتھیار نہیں سمجھتی بلکہ انہیں جارحانہ یا پہل کرنے کے ہتھیار سمجھتی ہے، جس کی وجہ سے کشیدگی میں اضافے کے خطرات ‘بے حد‘ بڑھ جاتے ہیں۔
جرمن سر زمین پر امریکی جوہری ہتھیار گزشتہ کئی دہائیوں سے نصب ہیں۔ ان میں سے بہت سے تو سرد جنگ کے زمانے سے موجود ہیں جنہیں روس کے خلاف سدباب یا دفاعی انتظام سمجھا جاتا تھا۔
ایس پی ڈی کے پارلیمانی سربراہ رالف مو¿ٹزینش کے بقول جرمن سرزمین پر امریکی جوہری ہتھیار، جرمنی کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور اسی لیے انہیں ہٹایا جانا چاہیے۔
رالف مو¿ٹزینش کا یہ بیان جرمن وزیر دفاع آنے گریٹ کرامپ کارین باو¿ر کی اس تجویز کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جرمن فوج کے اس وقت زیر استعمال ٹورناڈو لڑاکا طیاروں کو یورو فائٹر یا امریکی ایف 18 ملٹی رول لڑاکا طیاروں سے بدل دینا چاہیے۔ ایف 18 جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ کارین باو¿ر کی یہ تجویز دراصل نیٹو کی اس شرط کے مطابق ہے کہ جوہری ہتھیار نہ رکھنے والے رکن ممالک کو بھی جوہری دفاعی حکمت عملی میں شریک ہونے کے لیے تیار کیا جائے۔
ایس پی ڈی کے پارلیمانی سربراہ کے بیان پر نہ صرف سی ڈی یو کے ارکان پارلیمان نے تنقید کی ہے بلکہ کاروبار دوست سیاسی جماعت فری ڈیموکریٹک پارٹی (ایف ڈی پی) کی طرف سے بھی اسے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایف ڈی پی کے دفاعی معاملات سے متعلق خاتون ترجمان ماری آگنس اسٹراک زمرمان کے بقول، ”ایس پی ڈی کے پارلیمانی سربراہ مو¿ٹزینش کا مطالبہ غلط وقت پر غلط اشارہ ہے۔“ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی اتحادی جماعتوں کے درمیان دفاع اور سلامتی سے متعلق پالیسی پر لڑائی دنیا میں جرمنی کی ساکھ کو متاثر کر رہی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا، ”یہ خیال کرنا نا سمجھی ہے کہ اگر جوہری ہتھیار جرمن سرزمین سے ہٹا لیے جاتے ہیں تو نیٹو کی جوہری حکمت عملی پر جرمنی کے اثر و رسوخ میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔“
ایف ڈی پی کی اس ترجمان کے مطابق اگر جرمنی کو نیٹو اتحاد میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہیں تو اسے فی الفور ٹارنیڈو طیاروں کے نعم البدل کے بارے میں جلد فیصلہ کرنا چاہیے۔