پاکستان میں اسٹیٹ بینک کی مہنگائی کم ہونیکا دعویٰ غلط ہے،بلوم برگ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

امریکی جریدے بلوم برگ کے ماہرین نے پاکستان میں مہنگائی کم ہونے کے اندازوں کو غلط قرار دے دیاہے۔

گزشتہ دنوں گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے شرح سود 22 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

جمیل احمد کا کہنا تھا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کےمطابق آنےوالےمہینوں میں منہگائی میں کمی متوقع ہے، اگلے دو ماہ مہنگائی کی شرح 20 سے 22 فیصد رہنے کی توقع ہے جبکہ اگلے سال ترقی کی شرح دو سے تین فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی جریدے بلوم برگ کے ماہرین کا تجزیہ ہے کہ پاکستان میں اگلے سال مہنگائی کم نہیں بلکہ اور بڑھے گی، اسٹیٹ بینک کو شرحِ سود بڑھانا ہی ہوگی۔

بلوم برگ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے معاہدے کے باعث بجلی ،گیس مہنگی کرنا لازم ہوگا جو مہنگائی بڑھانے کی وجہ بنیں گے ۔

ماہرین نے مزید کہا کہ پاکستان میں کھانے پینے کی اشیا تقریباً 40 فیصد کی شرح سے مہنگی ہورہی ہیں ۔ آئی ایم ایف کا اوسط مہنگائی کا اندازہ 26 جبکہ اسٹیٹ بینک کا 20 سے 22 فیصد کا ہے ۔

بلوم برگ کے ماہرین کے مطابق امپورٹ پر پابندی ہٹانے سے خوراک کی سپلائی بہتر ہوجائے گی ۔

Share This Article
Leave a Comment