چار سال دوران دنیا بھر میں 12 کروڑ 20 لاکھ افراد بھوک کا شکار ہوئے، اقوام متحدہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

اقوام متحدہ کی 5 اداروں کی مشترکہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یوکرین میں جنگ سمیت وبائی امراض، موسمیاتی تبدیلیوں اور تنازعات کی وجہ سے دنیا میں 2019 سے مزید 12 کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ افراد بھوک کا سامنا کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کی طرف سے ’دنیا میں غذائی تحفظ اور غذائیت کی حالت‘ کے نام سے شائع کی گئی مشترکہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں 2019 سے اب تک 12 کروڑ 20 لاکھ افراد بھوک کا سامنا کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن، انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچرل ڈیولپمنٹ، یونیسیف، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور ورلڈ فوڈ پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ اگر رجحانات جوں کے توں رہے تو 2030 تک بھوک کے خاتمے کا پائیدار ترقی کا ہدف حاصل نہیں ہو سکے گا۔

رپورٹ میں بھوک کے خلاف جدوجہد کا مطالبہ کرتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2022 میں مجموعی طور پر 69 کروڑ 10 لاکھ سے 78 کروڑ 30 لاکھ کے درمیان لوگوں کو بھوک کا سامنا رہا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی وبا کورونا وبا سے قبل ان اعداد و شمار میں 2019 کے مقابلے میں 12 کروڑ 20 لاکھ افراد کا اضافہ ہوا ہے۔

گزشتہ روز جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2021 اور 2022 کے درمیان بھوک کا سامنا کرنے والے افراد کے اعداد و شمار رکے ہوئے تھے، دنیا میں بہت سے ممالک بھوک کے شدید بحرانوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

مزید بتایا گیا کہ ایشیا اور لاطینی امریکا میں بھوک میں کمی میں پیش رفت ہوئی لیکن 2022 میں مغربی ایشیا، کیریبین اور افریقہ کے تمام ذیلی خطوں میں بھوک اب بھی بڑھ رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق افریقہ بدستور سب سے زیادہ متاثرہ خطہ ہے جہاں 5 میں سے ایک شخص بھوک کا سامنا کر رہا ہے، درحقیقت یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ 2030 میں تقریباً 60 کروڑ افراد کو بھوک کا سامنا کرنا پڑے گا۔

2022 میں غذائی تحفظ اور غذائیت کی صورتحال سنگین رہی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی آبادی کا تقریباً 29.6 فیصد کو خوراک تک مسلسل رسائی حاصل نہیں رہی، ان میں سے تقریباً 9 کروڑ افراد کو خوراک کے شدید عدم تحفظ کا سامنا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment