کوئلہ سپلائر ایسوسی ایشن کا بلوچستان میں کام روکنے کا انتباہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان میںسیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پاکستان کول سپلائر ایسوسی ایشن اور گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے اعلان کیا ہے کہ اگر انہیں مناسب تحفظ نہیں دیا گیا تو وہ بلوچستان سے ملک بھر میں کوئلے کی فراہمی روک دیں گے۔

کوئٹہ میں مشترکہ پریس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نور احمد کاکڑ اور کول سپلائر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری محمد دین نے بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے 42 ٹرکس کے ٹائر پنکچر کر دیے، جر ہرنائی اور دکی سے کوئلہ پنجاب اور ملک کے دیگر حصوں میں لے کر جارہے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ مسلح افراد نے بندوق کے زور پر ہرنائی میں 42 ٹرکس کو روکا اور فائرنگ کی، انہوں نے نہ صرف ٹائروں بلکہ ٹرکوں کو بھی نقصان پہنچایا۔

ان کا کہنا تھا کہ کول سپلائر اور ٹرانسپورٹرز کوئلے کی ملک کے دیگر شہروں میں فراہم کرنے والے ٹرکوں کی سیکیورٹی کے لیے فرنٹیئر کورپس کو 230 روپے فی ٹن ادا کررہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ فائرنگ کے واقعات یکم جون کو ہرنائی روڈ پر پیش آئے، یہ مقام چیک پوائنٹ سے زیادہ دور نہیں تھا، مزید کہا کہ حکومت ٹرکوں اور کوئلہ فراہم کرنے والوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہرنائی اور دکی کے علاقوں میں فائرنگ کے واقعات حتیٰ کہ دھماکے بھی معمول بن چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اگر فائرنگ میں ملوث عناصر کو گرفتار نہ کیا گیا اور علاقے میں مستقل حفاظتی انتظامات نہ کیے گئے تو وہ 13 جون سے کوئلے کی سپلائی روک دیں گے۔

واضع رہے کہ بلوچستان میں مسلح آزادی پسند تنظیموں کی جانب سے حکومت اور بلوچستان کے معدنیات لے جانے والے کمپنیوں کو بارہا تنبیہ کی جاچکی ہے کہ یہ معدنیات بلوچستان کے عوام کی ملکیت ہیں ، ان کی لوٹ کھسوٹ میں تمام عناصر کو بطوردشمن سمجھا جائے گااور ان پر حملے ہوتے رہیں گے۔

گذشتہ روز ہرنائی میں پیش آنے والے واقعہ جس میں کوئلہ لے جانے والے 42 ٹرکوں کے ٹائر پنکچر کئے گئے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے ۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment