گذشتہ سال مسلح تنازعات میں 43 ہزار افراد مارے گئے،انتونیوگوتریس

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ 2022 میں مسلح تنازعات کے نتیجے میں ایک اندازے کے مطابق 43 ہزار افراد مارے گئے۔

ترک خبرایجنسی اناطولو کی رپورٹ کے مطابق مسلح تنازعات میں شہریوں کے تحفظ پر منعقدہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں انتوگوتریس نے خبردار کیا کہ جنگ دنیا بھر میں انسانی جانوں کے لیے تباہی کا باعث ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس گنجان آباد علاقوں میں 94 متاثرہ افراد عام شہری تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ تنازعات، کشیدگی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور تشدد کی وجہ سے بے گھر ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 10 کروڑ تک پہنچی جو مہاجرین بن گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تنازعات کی وجہ سے دنیا میں فوڈ سیکیورٹی کے مسائل جنم لے رہے ہیں۔

انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس جنگ اور عدم تحفظ کی وجہ سے 11 کروڑ 70 لاکھ افراد کو انتہائی بھوک کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ بھیانک حقیقت یہ ہے کہ دنیا بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت شہریوں کے تحفظ اور وعدوں پر پورا اترنے میں ناکام ہو رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے مطالبہ کیا کہ جو جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہے ہیں انہیں کٹہرے میں لایا جائے۔ ؎ خیال رہے کہ اقوام متحدہ نے اس سے قبل ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ تنازعات سے متاثرہ ملک سوڈان میں فوری امداد فراہم کرنے کے لیے 3 ارب 3 کروڑ ڈالر کی ضرورت ہوگی اور رواں برس 10 لاکھ سے زائد افراد کی پڑوسی ممالک نقل مکانی کا امکان ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment