طالبان حراست میں لی گئیں 5 خواتین کارکنان کو فوری رہا کرے، اقوام متحدہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کے اداراے کے سربراہ وولکر ترک نے افغان طالبان سے خواتین کی سول سوسائٹی تنظیم کی جانب سے منعقد ایک پریس کانفرنس کے دوران حراست میں لی گئیں 5 کارکنان کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے کابل میں ایک نیوز کانفرنس میں آکر رکاوٹیں پیدا کی جس کا مقصد خواتین کی ایک نئی تحریک ‘افغان خواتین کی تحریک برائے مساوات’ شروع کرنا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ نیوز کانفرنس کے دوران ایک خاتون کارکن ظریفہ یعقوبی اور ان کی چار ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ دیگر خواتین کو بھی عارضی طور پر تحویل میں لے کر ان سے تلاشی لی گئی اور بعد میں انہیں رہا کردیا گیا۔

جنیوا میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے اپنے ترجمان کی توسط سے کہا کہ ہم ان پانچوں خواتین کے حوالے سے فکر مند ہیں اور ان کی حراست کے بارے میں حکام سے معلومات طلب کی ہیں۔

تاہم، طالبان کے ترجمان نے اس متعلق فوری طور پر کوئی بیان نہیں دیا اور کہا کہ وہ معاملے کا جائزہ لیں گے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا تھا کہ اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان کی خواتین کے حقوق کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان کے عالمی برادری سے کیے گئے وعدوں کے برعکس خواتین کے لباس، نقل و حرکت اور تعلیم پر نئی پابندیاں عائد کردی ہیں۔

واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد خواتین کی تعلیم، نوکریوں اور سماجی زندگی کے دیگر عوامل پر متعدد پابندیاں عائد کی گئی ہیں جہاں خواتین ہر آئے دن اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر آتی ہیں جبکہ عالمی برداری بھی طالبان حکام پر خواتین کے حقوق باالخصوص تعلیم کی فراہمی یقینی بنانے پر زور دے رہی ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment