اقوام متحدہ کی انسداد دہشت گردی پر تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کو داعش اور اس کے ساتھیوں کی طرف سے بدستور عالمی سطح پر خطرہ لاحق ہے اور شدت پسند تنظیم کی کاروائیاں نئی اشکال میں سامنے آ رہی ہیں۔
اگرچہ رپورٹ کے مطابق داعش کے مالی اثاثوں میں خاطر خواہ کمی آئی ہے، پھر بھی تنظیم، جو اپنے آپ کو اسلامک اسٹیٹ کا نام دیتی ہے، مشرق وسطی کے ممالک شام اور عراق کے لیے بڑا خطرہ ہے جہاں اس کے جنگجووں کی تعداد اب بھی دس ہزار کے قریب ہے۔
سلامتی کونسل میں سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی کے سربراہ ولادیمیر وورونکوف نے کہا کہ داعش اور اس سے وابستہ تنظیمیں دہشت گرد حملوں کے لیے تحریک اور منصوبہ بندی کے لیے تنازعات، حکومتی علمداری میں کمزوریوں اور عدم مساوات جیسے مسائل سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔
دنیا بھر میں خطرات کا جائزہ پیش کرتے ہوئے، وورونکوف نے کہا کہ عراق اور شام کے درمیان سرحد انتہائی غیر محفوظ ہے، اس علاقے میں ایک اندازے کے مطابق 10 ہزار جنگجو کام کر رہے ہیں۔ اپریل میں، گروپ نے انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے سینئر رہنماؤں کا بدلہ لینے کے لیے ایک عالمی مہم شروع کی۔
عراق اور شام جیسے تنازعات کے شکار ملکوں کے علاوہ داعش نے افغانستان، صومالیہ اور جھیل چاڈ بیسن میں کاروائیوں پر اپنی توجہ مرکوز رکھی۔ البتہ عراق، شام اور افریقہ کے کچھ علاقے داعش کے پھیلاؤ اور بڑے پیمانے پر حملوں سے محفوظ رہے۔ وورونکوف نے یہاں داعش کی کسی بڑی کاروائی کے نہ ہونے کی وجہ صوبوں کے مرکز کی بجائے صوبائی سطحوں پر فعال ڈھانچے کو قرار دیا۔
وورونکوف نے بتایا کہ داعش کے رہنما 25 سے 50 ملین ڈالر کے درمیان اثاثے استعمال کررہے ہیں، جو تین سال پہلے کے اندازوں سے کافی کم ہے۔
تاہم، قانونی اور غیر قانونی دونوں ذرائع سے جاری دہشت گردی کی فنڈنگ تقاضا کرتی ہے کہ اس کی روک تھام کے لیے مسلسل کوششیں جاری رہیں۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب داعش خراسان نے نہ صرف افغانستان میں اپنے حملوں میں اضافہ کردیا ہے بلکہ دنیاکے مختلف حصوں میں اس سے وابستہ گروپوں کے فعال ہونے سے نئے چیلنجز سر اٹھا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق گزشتہ ہفتے کابل میں ایک دینی مدرسے میں ہونے والے خودکش حملے میں طالبان کے ایک اہم مذہبی رہنما رحیم اللہ حقانی کی داعش کے ہاتھوں ہلاکت شدت پسند تنظیم کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کو ظاہر کرتی ہے کیونکہ رحیم حقانی داعش کے بڑے نقاد تھے۔
افغانستان کے متعلق رپورٹ کہتی ہے کہ جب سے گزشتہ سال طالبان نے کنٹرول سنبھالا ہے، داعش کی موجودگی ملک کے شمال مشرق اور مشرق میں پھیل گئی ہے۔
خطے میں سلامتی اور بین الاقوامی امور کے ماہر اورتحقیقی ادارے پولیٹیکٹ کے تجزیہ نگار عارف انصار کہتے ہیں کہ داعش اور دوسری شدت پسند تنظیموں کی کارروائیاں ظاہر کرتی ہیں کہ وہ دنیا کو بیک وقت درپیش کئی مسائل کا فائدہ اٹھا رہی ہیں۔