بلوچوں کی جبری گمشدگیاں اور عالمی قوانین

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

اداریہ

بلوچستان میں بلوچ قوم کی جبری گمشدگیوں کے واقعات میں آئے روز شدت آرہی ہے۔اس انسانی المیے کا اندازہ ہم اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ آج پچپن) (55ہزار سے زائد بلوچ فرزند قابض پاکستانی عسکری اداروں کے اہلکاروں نے جبری طورپر لاپتہ کرکے اپنے عقوبت خانوں کی نذرکی ہیں۔ بلوچوں کی جبری گمشدگیوں کے خلاف قوم نے روزاول سے آواز بلند کی جو آج تک جاری ہے جو کبھی کوئٹہ، کراچی تو کبھی اسلام آباد میں احتجاج کرتے نظرآتے ہیں۔ احتجاج کا یہ سلسلہ گزشتہ بیس برسوں سے جاری ہے لیکن قابض کا نوآبادیاتی رویہ تبدیل ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔

آج کے جدید دور میں جسے انسانی تعمیر و ترقی کا روشن دور خیال کیا جاتا ہے۔ اس دور کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اکیسوی صدی عالموں کی صدی ہے اس میں جہالت کے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں۔ اس بات سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا کہ آج کے دور میں بنا علم کوئی انسان وقت و حالات کا مقابلہ کرسکتا ہو۔ دنیا سے مقابلہ کرنے کی اس امنگ نے بلوچوں کو علم کی جانب تحریک دی اور وہ اسی چاہت میں نہ جانے کتنی مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے اعلیٰ تعلیمی اداروں تک پہنچنے میں کامیاب ہورہے ہیں۔ لیکن جوں ہی وہ کسی نہج پہ پہنچنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو انہیں قابض کی بربریت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس حوالے سے ایک تو بلوچستان سے باہر جو تعلیمی ادارے ہیں وہاں پاکستان نواز طلبا کی حقارت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب وہ ان حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں تو ریاست کا قہر انہیں اپنے عتاب میں لے لیتی ہے جس کی تازہ مثال ماہ فروری 2022میں پہلے قائداعظم یونیورسٹی میں ایم فل کے طالب علم حفیظ بلوچ جس کا تعلق خضدار سے ہے انہیں پاکستان کے عسکری اداروں کے اہلکار جبری طور پر لاپتہ کرتے ہیں۔ اس کے بعد ملائشیا میں تعلیم حاصل کرنے والا جمیل بلوچ جس کا تعلق بارکھان سے انہیں سادہ کپڑوں میں ملبوس ریاستی اداروں کے اہلکار دن دھاڑے جبری طور پر لاپتہ کرتے ہیں۔ جمیل بلوچ کی جبری گمشدگی کے بعد دو مزید علم دوست بلوچ بارکھان سے ریاستی جبر کا نشانہ بنتے ہیں۔ ابھی بلوچ قوم اپنے انہی فرزندوں کے لیے سراپا احتجاج تھا کہ بہاولپور یونیورسٹی کے طالب علم دلیپ داس جس کا تعلق ضلع آواران سے ہے انہیں رکنی میں قائم فرنٹیئرکور(FC) چیک پوسٹ سے اس وقت جبری طور پر لاپتہ کیا جاتا ہے جب وہ چھٹیاں گزارنے اپنے آبائی علاقہ کی جانب سفر کررہے تھے۔

بلوچ قوم گزشتہ چوہتر برسوں سے پاکستانی بربریت کا شکار ہے جس کے لیے روز اول سے بلوچوں نے آواز بلند کرنا شروع کیا اور اگر جبر و بربریت کے خلاف آواز بلند کرنا جرم ہے تو پھر بلوچ مجرم ہیں۔ پھر جو چاہے انہیں سزا دی جائے جیسا ان کے ساتھ ہورہا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان سے تو کوئی گلہ بھی نہیں ایک تو یہ ریاست ہی غیر فطری ہے جسے برطانوی آبادکاروں نے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے قائم کیا لیکن عالمی برادری کی خاموشی ان کی مجرمانہ غفلت کو ظاہر کرتی ہے حالانکہ اس ضمن میں انہوں نے ازخود قانون سازی بھی کی ہیں لہذا انہیں اپنے انہی قوانین کی پیروی کرتے ہوئے بلوچ قوم پہ ہونے والے مظالم کا پردہ فاش کرنا چاہیے اور اس مجرم(پاکستان) کے خلاف تادیبی کارروائی کرنی چاہیے۔

اس ضمن میں عالمی قوانین یہ کہتی ہیں کہ جس کا مسودہ انٹرنیشنل کنونشن 20 دسمبر 2006 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی طرف سے قانونی شکل میں منظور کر لیاگیا۔ اس قانون کی رو سے متاثرہ خاندانوں کوReparations حاصل کرنے کے لئے، اور اپنے پیاروں کی گمشدگی کے بارے میں حقیقت جاننے اورانکی تلاش اوران کاسراغ لگانے کا حق حاصل ہے۔اقوام متحدہ کا یہ قانون جبری گمشدگیوں کے حوالے سے واضح طور پہ یہ کہتا ہے کہ”ایسی گرفتاری، تحویل میں لینا یا اغوا کرنا یا کسی شخص کو آزادی سے محروم کرنا جو کہ ریاست کی ایجنسیوں یابراہ راست فوج کی طرف سے ہو اور اس کے نتیجے میں اس شخص کے بارے میں معلومات کسی کو بھی میسر نہ ہوں اور وہ شخص قانون کے دائرہ کار سے بھی باہر ہویہ جبری گمشدگی کہلاتی ہے۔“کنونشن کے مطابق”جبری گمشدگی کو کسی بھی قسم کے حالات چاہے حالت جنگ ہو یا جنگ کا خطرہ ہو، اندرونی سیاسی عدم استحکام ہو یا ایمرجنسی نافذہوان میں سے کسی بھی شئے کوبنیاد بناکرجبری گمشدگی کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔“

اس کنونشن میں مزید یہ بھی درج ہے کہ”ریاست لازمی طور پر ہرجبری گمشدگی کی ذمہ دارہوتی ہے اس لئے اسے بھی کنونشن میں فریق بنایا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ان قوانین کے باوجود بلوچستان میں یہ انسانی بحران آئے روز شدت اختیار کررہی ہے۔ لہذا عالمی برادری اس کنونشن کی شقوں پہ عمل کرنے کے لیے نہ صرف پاکستان کو مجبور کریں بلکہ وہ ان قوانین کی پامالی کے جرم میں پاکستان پہ معاشی اور عسکری پابندیاں لگائیں تاکہ قابض کی تندخوئی کا خاتمہ ممکن ہوسکے نہیں تو بلوچ اور یہاں کے محکوم آئے روز اپنے حفیظ، جمیل اور دلیپ داس جیسے مستقبل کے معماروں کا غم لیے سڑکوں پہ سراپا احتجاج ہوں گے، احتجاج بھی کچھ ایسا جس میں مظلوموں کی کوئی شنوائی نہ ہو لیکن پھر بھی مجرمانہ خاموشی سے جدوجہد کرنے کو ترجیح دیتے رہینگے اور اس وقت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا جب تک دنیا اپنی مہذب ہونے کا ثبوت نہیں دیتی۔


٭٭٭

Share This Article
Leave a Comment