متحدہ عرب امارات میں کورونا پھیلانے پر 5 سال کی سزا مقرر کردی گئی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

متحدہ عرب امارات کی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں جان بوجھ کر کورونا وائرس پھیلانے والے شخص کو گرفتاری کی صورت میں 50 ہزار درہم جرمانہ اور 5 سال قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔

خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اس سزا اور جرمانے کا اعلان امارات کے ایک سے دوسرے کو منتقل ہونے والی بیماری کے قانون کے تحت کیا گیا، جس کا اطلاق 2014 میں ہوا تھا۔

قانون کے مطابق کسی شخص کا جان بوجھ کر ایسا برتائو کرنا جس سے انفیکشن کسی دوسرے میں منتقل ہو، قابل سزا جرم ہے۔

قانون کے تحت ارادتاً بیماری کسی دوسرے شخص کو منتقل کرنے والے کے لیے 5 سال قید اور کم از کم 50 ہزار جرمانے کی سزا مقرر ہے اور یہ جرمانہ ایک لاکھ درہم سے زیادہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔

اماراتی حکومت نے اب اس قانون کا اطلاق کورونا وائرس کی وبا کے لیے بھی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

قانون کے تحت عوام کو بھی پابند کیا گیا ہے کہ وہ ایک سے دوسرے کو منتقل ہونے والی بیماری میں مبتلا مشتبہ شخص سے متعلق رپورٹ کریں۔

رواں ہفتے کے اوائل میں متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل ڈاکٹر حماد الشمسی نے عوام پر زور دیا تھا کہ وہ بتائی گئیں احتیاطی تدابیر پر عمل کریں، جس میں بیرون ملک سے آنے والوں کو لازمی طور پر خود کو آئیسولیشن میں رکھنا بھی شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان ہدایات پر عمل نہ کرنا قابل سزا جرم ہے کیونکہ اس طرح دوسروں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوتے ہیں۔

انہوں نے عوام کو افواہیں پھیلانے اور غلط معلومات شیئر کرنے سے متعلق بھی تنبیہ کی تھی۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات میں کورونا وائرس کے 153 کیسز سامنے آچکے ہیں جبکہ 2 افراد جان کی بازی بھی ہار چکے ہیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment