افغانستان کو خون ریزی سے بچانے کیلئے ملک چھوڑا، اشرف غنی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے طالبان کی تازہ ترین پیش قدمی کے بعد اتوار کو ملک چھوڑ دیا ہے۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے فیس بک پر پشتو زبان میں اپنے ایک پیغام میں ملک چھوڑنے کی تصدیق کی اور کہا کہ ”مجھے آج ایک بہت مشکل فیصلہ کرنا تھا۔ یا تو میں مسلح طالبان کا مقابلہ کرتا یا پھر ملک چھوڑ دیتا۔”

انہوں نے کہا کہ اگر میں ملک میں ٹہرتا تو لاتعداد لوگ مارے جاتے۔ 60 لاکھ کی آبادی کا شہر کابل تباہ ہو جاتا اور وہاں رہنے والوں کو ایک سانحے اور المیے کا سامنا کرنا پڑتا۔

اشرف غنی کا کہنا تھا کہ ”طالبان کو فتح تلوار اور بندوق کے زور پر ہوئی ہے اور اب وہ عوام کی عزت، زندگیوں اور املاک کی سلامتی کے لیے جواب دہ ہیں۔ انہوں نے لوگوں کے دل نہیں جیتے۔ تاریخ میں کبھی کسی کو طاقت کے ذریعے قانونی جواز حاصل نہیں ہوا ہے۔”

خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق افغان سیکیورٹی کونسل کے مشیر اور سابق صدر حامد کرزئی کے آفس کے ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ صدر اشرف غنی ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

اے پی کے مطابق حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا ہے کہ صدر غنی کے ہمراہ افغان قومی سلامتی کے مشیر محب اللہ محب بھی وطن چھوڑ چکے ہیں۔

تاہم فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ صدر غنی افغانستان سے کس ملک گئے ہیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment