محکمہ پولیس کسی بھی ریاست میں امن و امان بحال رکھنے کا ضامن ہے،ریاست میں بسنے والوں کی عزتوں،جان و مال کا تحفظ کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے،ماضی میں محکمہ پولیس کے اہلکاروں کی بہادری،حوصلے،ہمت اور عزت و غیرت کی مثال دی جاتی تھی۔ قانون نے معاشرتی امن قائم کرنے کے لئے پولیس کو اختیارات جبکہ ریاست نے وسائل دئیے ہیں وسائل اور اختیارات کی موجودگی میں کرائم کی شرح کوکم ہونا چاہیے لیکن یہ کیا؟
جامعہ باغ کی دو طالبات کی درخواست پر پولیس اہلکار قدیر کیخلاف درج کی گئی ایف آئی آرکچھ اور ہی داستا ن سنا رہی ہے۔لیکن اس ایف آئی آر نے مجھے تجسس یا حیرت میں نہیں ڈالا بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر رونا آیا عوام کی حفاظت پر مامور جب خود انکی عزتوں کے لٹیر ے بن جائیں تو حیرت نہیں ہوتی دل خون کے آنسو روتا ہے۔زینب کا کیس سامنے آنے پر اگر ہم اس درندے کو نشانہ عبرت بنا دیتے تو سانحہ نور مقدم ہماری تاریخ کا حصہ نہ بنتا اور دنیا بھر میں ہماری جگ ہنسائی نہ ہوتی۔معصوم کلی زینب کو کھلنے سے پہلے ہی مسل دیا گیا ہو یاجس طرح نور مقدم کو اس کے دوست ظاہر جعفر نے گھر بلاکر ٹارچر دیتے دیتے ا س کا سر تن سے جدا کر ڈالا۔ ہمارے حکمرانوں اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہیں لیکن ہم بحیثیت قوم اتنے بے حس ہو چکے کہ ہمیں یہ سانحات روزکا معمول لگتے،افسوس کرتے،سوشل میڈیا پر مجرموں کو کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کرتے،بیانات چلاتے اور پھر خاموشی۔
ظلم اور سفاکیت کے واقعات سے پاکستان کی تاریخ بھری پڑی ہے مگر آج تک مجرموں کو کڑی سزا نہیں دی گئی اور انہیں معاشرہ کے لئے عبرت ناک مثال نہ بنایا گیا۔جس کی وجہ سے آئے روزہوا کی بیٹیوں کو آسان ٹارگٹ سمجھ کر صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے۔کچھ کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے تو کہیں مردوں کی انا کو ٹھیس پہنچانے پر تیزاب پھینک کر خوبصورت چہروں کوہمیشہ کے لئے داغ دار کر دیا جاتا ہے۔کہیں جائیداد میں حصہ مانگنے پر سگے بھائی ہتھوڑے اور ہیلمٹ برساتے دیکھائی دیتے ہیں تو کہیں معصوم کلیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا کر کھلنے سے پہلے ہی نوچ لیا جاتا ہے۔
گزشتہ روز ایک خبر پڑھی جس میں ایک بار پھر عورت کے وجود کو اپنے مفادات کیلئے استعمال کیا گیااور نہ صرف دو بچیوں کی زندگیاں تباہ کی گئیں بلکہ انکی روح تک زخمی کی گئی۔آج تک ایک سوال کا جواب تلاش نہ کر سکی؟کیا مردوں کی نظر میں عورت صرف مردوں کی ہوس کو تسکین کا ذریعے بننے کیلئے اس دنیا میں بھیجی گئی ہے؟بہت سی زندہ مثالیں مجھے اس سوال کا جواب نفی میں دیتی ہیں۔لیکن پھر کوئی نہ کوئی سانحہ روح تک کو زخمی کر دیتا ہے۔
کہیں نوکری کا جھانسہ دے کر لڑکی کی معصومیت کا ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا ہے تو کہیں شادی، محبت وعشق کا فریب دے کر لڑکی کے جذبات کا قتل عام کیا جاتا ہے،کہیں معلم کے روپ میں وحشی درندے بچیوں کو امتحانات میں اچھے نمبروں سے کامیاب کرنے کا لالچ دے کر ان معصوم لڑکیوں کی عزتوں کی دھجیاں بکھیرنے کی قیمت وصول کرتے ہیں۔ایسے درندہ صفت مردوں کو کیوں بھول جاتا ہے کہ ہمارے رب نے اس دنیا کو مکافات عمل کہا ہے جیسا بو گے ویسا کاٹوگے۔ایسے بھیڑیے اپنے لئے تو پاک دامن بہن،بیٹی اور بیوی کی خواہش رکھتے ہیں لیکن دوسروں کی بہن،بیٹی اور بیوی کی پاک دامنی کو تار تار کیوں کر دیتے ہیں؟قصور آخر ہے کس کا؟
عورت اگر جنسی استحصال کا شکوہ کرتی ہے تو ہمارا معاشرتی رویہ عورت کو کبھی اسکے لباس اور کبھی اسکے بولڈ ہونے کا احساس دلا کر مجرموں کے کٹہرے میں لا کھڑا کرتا ہے؟
میں نے اپنی زندگی میں ایسے مردوں کو بھی دیکھا ہے جو ہر عورت کو اپنے گھر کی عورتوں سے بڑھ کر عزت اور مقام دیتے ہیں۔ان کے سامنے عورت کا جسم معنی نہیں رکھتا بلکہ وہ اپنی نظروں کو نیچا رکھنا جانتے ہیں۔ سلوٹ ہے ایسے مردوں اور انکی تربیت کرنے والے خاندان پر۔
باغ ویمن یونیورسٹی کی طالبات کیساتھ مبینہ طور جنسی زیادتی کرنیوالا عبدالقدیر نامی پولیس اہلکار اب تک ضلع باغ کے تینوں حلقوں غربی باغ دھیرکوٹ، وسطی باغ، شرقی باغ اور ضلع پونچھ کی کئی طالبات کی زندگیاں تباہ کر چکا ہے۔ عوام علاقہ کے مطابق اس اہلکار کو سرکاری افسران اور اعلی شخصیات کی پشت پناہی حاصل ہے جنھیں یہ اس مکروہ دھندے کے ذریعے مستفید کرتا ہے۔ یہ اہلکار عرصہ دراز سے اس مکروہ دھندے میں ملوث ہے، طالبات کو بہلا پھسلا کر اپنے جال میں پھنساتا ہے، انہیں خود بھی استعمال کرتا ہے اور اپنے افسران اور اعلی شخصیات کو بھی پیش کرتا ہے، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ اہلکار لڑکیوں کی ویڈیوز بنا کر انھیں بلیک میل کرتا ہے اور ان سے ماہانہ پیسے کھاتا ہے، یہ بھی اطلاع ہے کہ یہ اہلکار اپنی ٹیم کے ذریعے ضلع بھر میں منشیات کا مکروہ کاروبار بھی کرتا ہے اور ان سارے جرائم میں اس اہلکار کو محکمہ کے چند لوگوں اور چند با اثر شخصیات کی سرپرستی حاصل ہے۔
باغ ویمن یونیورسٹی کی طالبات کیساتھ مبینہ طور جنسی زیادتی کرنے والا قدیر جتنا قصور وار ہے ا تناہی قصور وار ہمارا معاشرہ اور ہمارا سسٹم ہے۔جس میں سفارش،دولت کوطاقت کا اعلیٰ ترین مقام سمجھا جاتا ہے جب رشوت، سفارش اور دلالی کر کے قدیر جیسے ناسور حق دار کا حق غضب کر کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونگے تو وہ یہی نظام پوری ریاست میں رائج کرنے کا باعث بنیں گے۔آج کے دور میں بدقسمتی سے عورت کو ٹشو پیپر سمجھ کرہر جگہ پر استعمال کیا جاتا ہے۔دنیا کی لذتوں سے لطف اندوز ہونے کیلئے دلالی سب سے آسان راستہ بنا دیا گیا ہے لیکن معاشرے کے ایسے ناسور یہ بھول جاتے ہیں کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔جس دن اللہ نے رسی کھینچی اس دن قیامت خیز زلزلے ہمیں صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے۔
قدیر کے خلاف ایف آئی آر درج ہو جانا کوئی کامیابی نہیں۔ مزہ تو تب ہے ایسے درندوں کو نشان عبرت بنایا جائے اور اسکے سہولت کاروں کو بھی عوام کے سامنے لایا جائے۔ ہو ا کی بیٹیوں کی زندگیوں سے کھیلنے والے محافظوں کے روپ میں چھپے درندوں کے خلاف ہمیں خود ہمت دکھانا ہو گی۔ایسے کھوکھلے سسٹم کو جس میں کامیابی کیلئے دلالی آسان راستہ اور عورت آسان ٹارگٹ سمجھی جاتی ہے اس کو بدلنے کیلئے عورتوں کو خود آگے آنا ہوگا۔ ایسے مافیا کے چہروں کے میک اپ اتارنے ہونگے۔ایسے ناسوروں کو نشان عبرت بنانے کے لئے ہر حد عبور کرنا ہو گی تاکہ دوبارہ کوئی بھی نوکری کاجھانسہ دے کر ہماری بہنیں،بیٹیوں کو بلیک میل کر کے انکی مجبوریوں کا سودا نہ کر سکیں۔یاد رکھیں عورت آسان ٹارگٹ نہیں ہے مقبوضہ کشمیر کی مائیں بہنیں بیٹیاں ہمارے سامنے مثال کے طور پر موجود ہیں جو بھارت کے مظالم کے سامنے شمشیر سے زیادہ تیزدار اور چٹان سے زیادہ مضبوطی ثابت کر چکی ہیں۔اگر عورت ڈٹ جائے تو کوئی درندہ اسکی مجبوری کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔