اشرف غنی نے افغان امن کیلئے 3مراحلکی ”امن روڈ میپ“ کی تجویز پیش کردی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

ترکی میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس کے دوران افغان صدر اشرف غنی افغانستان میں امن کے لیے تین مراحل پر مشتمل ‘امن روڈ میپ’ پیش کریں گے۔

افغان صدر انتخابات سے قبل طالبان سے معاہدہ اور جنگ بندی کا مطالبہ کریں گے۔

واشنگٹن اقوام متحدہ کی شمولیت کے ساتھ رواں ماہ افغان حکومت اور طالبان کے مابین امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے ترکی کے زیر اہتمام ایک کانفرنس کے لیے زور دے رہا ہے۔

خیال رہے کہ افغانستان سے تمام غیرملکی فوجیوں کے انخلا کی آخری تاریخ یکم مئی ختم ہوگئی ہے۔

اشرف غنی کا یہ منصوبہ واشنگٹن کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کے مقابلے میں رکھا جائے گا جسے افغان حکومت نے مسترد کردیا تھا۔

جس میں طالبان کے نمائندوں کو شامل کرنے کے لیے عبوری انتظامیہ کو ایک نیا قانونی نظام وضع کرنے کا تصور کیا گیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق پہلے مرحلے میں سیاسی تصفیہ کے بارے میں اتفاق رائے اور بین الاقوامی سطح پر نگرانی کی جانے والی جنگ بندی شامل ہوگی۔

دوسرے مرحلے میں صدارتی انتخابات اور ‘سیاسی حکومت’ کا قیام اور نئے سیاسی نظام کی طرف بڑھنے کے لیے عمل درآمد کے انتظامات ہوں گے۔

تیسرے مرحلے میں افغانستان کی ترقی کے لیے ‘آئینی فریم ورک، مہاجرین کی بحالی اور ترقی’ شامل ہوگی۔

ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ افغان صدر اشرف غنی پہلے ہی اپنا روڈ میپ غیرملکی دارالحکومتوں کے ساتھ تبادلہ کرچکے ہیں۔

تاحال ترکی کے اجلاس کی تاریخ کا فیصلہ ہونا باقی ہے لیکن متعدد ذرائع نے بتایا کہ یہ دو ہفتوں کے دوران ہوسکتا ہے۔

افغان حکومت اور متعدد سیاستدانوں نے کہا کہ افغان صدر کو اجلاس سے قبل طالبان کے ساتھ ایجنڈے پر اتفاق رائے کرنا ہوگا۔

گزشتہ ماہ ایک بیان میں طالبان نے دھمکی دی تھی کہ اگرسابق صدر ٹرمپ انتظامیہ کے مابین معاہدے کے تحت طے شدہ یکم مئی کی ڈیڈ لائن کو پورا نہیں کرتے تو دوبارہ حملے شروع ہوجائیں گے۔

ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے کہا کہ طالبان یکم مئی کی تاریخ میں توسیع کرنے پر راضی ہیں اور وہ کابل حکام کے زیر حراست اپنے ہزاروں قیدیوں کی رہائی کے بدلے غیر ملکی افواج کے خلاف حملے دوبارہ شروع نہیں کریں گے۔

دوسری جانب قطر میں طالبان کے ترجمان محمد نعیم نے بتایا کہ ایسی کوئی پیش کش نہیں کی گئی تھی۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment