پولیس نے ماماقدیر بلوچ کے بھتیجوں کی گمشدکی کی ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر لیا۔

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیربلوچ نے کہا ہے کہ میرے چھوٹے بھائی شبیر احمدریکی کے دو بیٹوں سمیت ہمارے خاندان کے چار کم سن نوجوانوں کو سوراب میں ایف سی اہلکاروں نے 31 مارچ کو ان کی دکان پر چھاپہ مار کر ماورائے قانون گرفتار کیا۔

انھوں نے کہا کہ پولیس نے ان کی جبری گمشدگی کی ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کیا ہے اور دباؤ کے بعد محض ایک ابتدائی رپورٹ درج کی ہے۔انھوں نے کہا شبیر احمد بینک ملازم تھے ریٹائرمنٹ کے بعد بچوں آصف اور اللہ دین کو دکان کھول کر دیا بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اللہ دین نے بی اے کیا ہے سرکاری نوکری دور کی بات ہے زندہ رہنے کا بھی حق نہیں دیتی اس لیے بچے دکان میں بیٹھے تھے۔

میرے کزن کا لڑکا عرفان اور دوسرے رشتہ دار ذوالقرنین بھی دکان پر بیٹھے تھے ان دونوں کو بھی جبری لاپتہ کیا گیا ہے۔اس واقعے کے وقت گاہگ بھی دکان میں موجود تھے۔گرفتار کرنے والوں میں ایف سی کی تین گاڑیوں پر مشتمل درجنوں اہلکار بھی شامل تھے جنھوں نے قریب کی دکانیں بند کروائیں اور آئی ایس آئی اہلکاروں کے لیے راستہ صاف کیا جو بعد میں تین گاڑیوں پر آئے، جن کے کالے شیشے تھے اور بغیر نمبر پلیٹ کے تھیں جس سے پتا چلتا ہے کہ یہ ان کی گاڑیاں ہیں۔آئی ایس آئی کے سادہ لباس میں اہلکاروں نے بچوں کے منہ پر کالا کپڑا ڈالا اور انھیں خضدار کی طرف لے کر گئے ہیں جہاں ایک بڑا فوجی کیمپ ہے جہاں انھیں عقوبت خانے میں بند کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جبری لاپتہ کیے گئے بچوں کا نہ کسی کی تنظیم سے تعلق ہے اور نہ ہی اس سے پہلے ان کے بارے میں کوئی شکایت موصول ہوئی تھی بچے پڑھائی کرتے ہیں اور پڑھائی کے بعد اپنی دکان پر بیٹھتے تھے۔انھوں نے یہ بھی کہا سوراب میں ہر تیسرے شخص کا تعلق ڈیتھ اسکواڈ سے ہے وہاں کسی ایسی سرگرمی میں ملوث ہونا جو ریاست کے لیے ناپسندیدہ ہو مشکل ہے اگر بچے کسی ایسی سرگرمی میں ملوث ہوتے تو یہ بات بہت پہلے کھل جاتی لیکن انھیں اچانک گرفتار کیا گیا۔انھوں نے کہا کہ ان کی گرفتاری اور جبری گمشدگی کے بعد کوئی آکر تسلی دے کر چپ کرنے کے لیے کہہ رہا ہے اور کوئی دھمکی دے رہا ہے لیکن ہم 12 سالوں سے دیکھ رہے ہیں کہ جب لوگوں کو جبری لاپتہ کیا جاتا ہے تو تسلیاں دی جاتیں اور لوگوں کو سالوں ٹارچرسیلز میں بند کرکے بعد چھوڑا جاتا ہے۔اسی روز ریکی قبیلے کے ایک اور نوجوان کو بھی ان کے گھر سے گرفتاری کے بعد جبری لاپتہ کردیا گیا ہے لیکن اس کا نام معلوم نہیں ہوسکا۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment