مہر گڑھ عجائب گھر کی تزئین و آرائش مکمل، 8 ہزار سال قدیم تاریخی ورثہ نئے انداز میں محفوظ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان میں قدیم تاریخ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کی سمت ایک بڑی پیش رفت کے تحت تاریخی ‘مہر گڑھ عجائب گھر’ (Mehrgarh Museum Quetta) کی عالمی معیار کے مطابق تزئین و آرائش اور تحفظ کا منصوبہ کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا گیا ہے۔

یہ منصوبہ امریکہ کے ’ایمبیسیڈرز فنڈ فار کلچرل پریزرویشن‘ (AFCP) کے تعاون سے بلوچستان میں مکمل کیا جانے والا اپنی نوعیت کا پہلا اور اہم ترین پروگرام ہے۔

منصوبے کی باضابطہ تکمیل کی مناسبت سے منعقدہ ایک پروقار تقریب میں امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر (Natalie Baker) نے خصوصی شرکت کی اور عجائب گھر کے مرکزی دروازے پر نصب یادگاری تختی کی نقاب کشائی کی۔ کوئٹہ میں رواں ماہ عجائب گھر کا باضابطہ دوبارہ افتتاح کیا جائے گا۔

مہر گڑھ کا شمار دنیا کی قدیم ترین نوپاشاتی (Neolithic) تہذیبوں میں ہوتا ہے، جس کی تاریخ کم و بیش 8 ہزار سال قبل مسیح تک جاتی ہے۔ اس منصوبے کے بنیادی فوکس میں قدیم مہر گڑھ تہذیب اور حجری دور (Stone Age) کے نادر و نایاب آثارِ قدیمہ کو سائنسی بنیادوں پر محفوظ بنانا شامل تھا۔

جدید تزئین و آرائش کے بعد، مہر گڑھ میوزیم اب بین الاقوامی سائنسی و موزیم کے معیارات کے مطابق اس عظیم انسانی تاریخ کو دنیا کے سامنے نمایاں اور جدید انداز میں پیش کرنے کے لیے تیار ہے۔

اس منصوبے کے تحت محض عمارت کی مرمت ہی نہیں کی گئی بلکہ عجائب گھر کے گیلریز، ڈسپلے اور نوادرات کی ترتیب کو عالمی تکنیکی معیار پر استوار کیا گیا ہے تاکہ شائقین اور محققین کے لیے معلومات تک رسائی آسان ہو سکے۔

تاریخی ورثے کی طویل المدتی نگہداشت کو یقینی بنانے کے لیے مقامی ماہرین اور عملے کو نوادرات کی حفاظت اور مرمت کی جدید امریکی تکنیکوں پر تربیت فراہم کی گئی۔ مہر گڑھ تہذیب کی تاریخی اہمیت کے حوالے سے تعلیمی اور عوامی آگاہی کے دائرہ کار کو وسعت دی گئی ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے کہا کہ امریکہ کو اس بات پر فخر ہے کہ اس کی مہارت کی بدولت بلوچستان کا مہر گڑھ عجائب گھر 8,000 سال پرانی عظیم الشان تہذیب اور اس سے جڑے مختلف تاریخی ادوار کو ایک شاندار اور محفوظ انداز میں دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے منصوبے دیرپا اور ٹھوس نتائج فراہم کرتے ہیں، جو نہ صرف خطے کے تاریخی و ثقافتی ورثے کو تباہ ہونے سے بچاتے ہیں بلکہ مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور مقامی آبادی و ماہرین کو بااختیار بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

Share This Article