پاکستانی فوج کے ہاتھوں مزید 5 افراد جبری لاپتہ، 3 لاپتہ نوجوان بازیاب

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق بلوچستان کے مختلف علاقوں سے پاکستانی فوج ، انٹیلی جنس اداروں اور ڈیتھ اسکواڈز نے مزید 5 افراد کو جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے، جبکہ دوسری جانب پہلے سے لاپتہ 3 شہری بازیاب ہو کر اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔

تازہ ترین جو جبری گمشدگیاںہوئیں ان کی شناخت درج ذیل ہیں۔

گل احمد ولد اختر محمد،(عمر 37 سال) ساکن سنگان (سبی)۔ پیشے کے لحاظ سے کسان ہیں۔ 22 اکتوبر 2026 کو رات 11:00 بجے ان کے گھر سنگان سے آئی ایس آئی اور سی ٹی ڈی نے انہیں تحویل میں لے کر لاپتہ کر دیا۔

ظاہر بلوچ ولد داد محمد،(عمر 37 سال) ساکن سنگان (سبی)۔ پیشے کے لحاظ سے ڈرائیور ہیں۔ 21 اکتوبر 2026 کو رات 11:00 بجے سبی شہر سے آئی ایس آئی اور سی ٹی ڈی نے انہیں حراست میں لے کر لاپتہ کیا۔

عبداللہ بلوچ ولد رشید، (عمر 22 سال) ساکن بلینہ خضران (خضدار)۔ پیشے کے لحاظ سے طالب علم ہیں۔ 4 نومبر 2026 کو شام 6:30 بجے پرائیویٹ اسلامک اسکول، خضدار کے قریب سے ڈیتھ اسکواڈ کے اہلکاروں نے اٹھا کر لاپتہ کر دیا۔

نسیم بلوچ ولد اقبال بلوچ،(عمر 20 سال) ساکن سہراب بلیدہ (کیچ)۔ پیشے کے لحاظ سے مزدور ہیں۔ 3 نومبر 2026 کو رات 1:00 بجے فرنٹیئر کور (ایف سی) نے ان کے گھر پر چھاپہ مار کر انہیں تحویل میں لیا۔

آصف بلوچ ولد فاضل بلوچ،(عمر 15 سال) ساکن ریکو بلیدہ (کیچ)۔ پیشے کے لحاظ سے مزدور ہیں۔ 3 نومبر 2026 کو رات 1:00 بجے ایف سی نے ان کے گھر سے انہیں حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا۔

پاکستانی فوج کے اذیت خانوں سے بازیاب ہونے والے 3 افراد کی شناخے درج ذیل ہیں۔

جواد شاد ولد دلشاد، ساکن آپسر تربت (کیچ)۔ 20 ستمبر 2026 کو لاپتہ کیے گئے تھے اور 6 نومبر 2026 کو کوئٹہ سے ان کی بازیابی عمل میں آئی۔

وقاص بلوچ ولد احسان اللہ، ساکن ڈیرہ غازی خان۔ 30 اکتوبر 2026 کو لاپتہ کیے گئے تھے جنہیں 5 نومبر 2026 کو راولپنڈی سے رہا کر دیا گیا۔

شفیق احمد ولد نور محمد، ساکن مولی گوارنجو گدر (سوراب)۔ 5 نومبر 2025 کو جبری لاپتہ کیے گئے تھے جن کی کوئٹہ سے 17 مئی 2026 کو بازیابی ہوئی۔

Share This Article