بلوچستان کے علاقے وندر میں پولیس اسٹیشن کی حدود میں گوٹھ میر عبدالقیوم جاموٹ کاٹھوڑ کے قریب واقع آرہ مشین ٹال پر بیٹھے 30 سالہ نوجوان آل میر ولد عجب خان ساکن گلشیری کو نامعلوم مسلح افراد نے مبینہ طور پر فائرنگ کرکے قتل کردیا اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد لاش ریسکیو سینٹر وندر منتقل کردی گئی جہاں ڈاکٹروں کے مطابق مقتول کی آنکھ میں ایک گولی ماری گئی جو سر کے پچھلے حصے سے پار ہوگئی جس کے باعث وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔
قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف لواحقین نے مقتول کی لاش سڑک پر رکھ کر دھرنا دے دیا جس کے باعث ٹریفک مکمل طور پر بند رہی اور اندرون بلوچستان سے کراچی جانے اور آنے والی گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
اس موقع پر جمعیت علمائے اسلام ، جام گروپ ، بھوتانی گروپ ، پاکستان پیپلز پارٹی ، نیشنل پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے اکابرین نے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا جبکہ بلدیاتی نمائندگان اور قبائلی عمائدین بھی دھرنے میں شریک ہوئے۔
اس موقع پر ڈی ایس پی وندر سرکل کنراج محمد جان ساسولی نے مظاہرین کے ساتھ کامیاب مذاکرات کیے جس کے بعد مظاہرین نے مقتول کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے وندر پولیس کو 24 گھنٹوں کی مہلت دے دی اور واضح کیا کہ اگر ملزمان گرفتار نہ ہوئے تو دوبارہ احتجاج کیا جائے گا دھرنا دینے کے ساتھ احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔
نوجوان کے قتل کی وجہ تاحال معلوم نہ ہوسکی۔