پاکستانی فوج کا بلوچستان میں 21 ستمبر سے اب تک 33 مسلح افراد کو مارنے کا دعویٰ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان میں جاری انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران 21 ستمبر سے اب تک مجموعی طور پر 33 مشتبہ مسلح افراد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔

آئی ایس پی آر سے جاری بیان کے مطابق ’24 ستمبر کو آپریشن شعبان کے تسلسل میں سکیورٹی فورسز نے مسلح افراد کے مزید ٹھکانے تباہ کیے۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ فائرنگ کے تبادلے میں پانچ مشتبہعسکریت پسند ہلاک ہوئے، جس کے بعد سکیورٹی اداروں کے آپریشن میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 22 ہو گئی۔

آئی ایس پی آر نے اپنے دعوے میں مزید کہا کہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا اور علاقے میں تاحال کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

فوج کے مطابق ایک اور کارروائی 25 ستمبر کو ضلع نوشکی میں انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا اور فائرنگ کے تبادلے کے بعد 11 مشتبہ عسکریت پسند ہلاک ہو گئے۔

ماضی کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے، آئی ایس پی آر نے ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت ذرائع ابلاغ کے سامنے ظاہر نہیں کی۔ دوسری جانب پاکستانی مین اسٹریم اور بین الاقوامی میڈیا نے بھی اس بات کی تصدیق کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ آیا عسکری کارروائی میں 33 افراد کی ہلاکت کے دعوے میں کتنی سچائی ہے—جو صرف آئی ایس پی آر کے ایک پریس ریلیز کے ذریعے میڈیا کے حوالے کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ پاکستانی فوج کی جانب سے بلوچستان میں مسلح افراد کو مارنے کے جتنے بھی دعوے سامنے آتے ہیں، ان کے زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہوتے ہیں۔ جب ہلاک شدگان کی تفصیلات سامنے آتی ہیں، تو اکثر ان کی شناخت پہلے سے جبری طور پر لاپتہ افراد کے طور پر ہوتی ہے، جنہیں دورانِ حراست یا کسی جعلی کارروائی میں قتل کر کے "عسکریت پسند” قرار دے دیا جاتا ہے۔ بااثر میڈیا ادارے اس تمام عمل کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تصدیق کرنے سے مکمل طور پر قاصر اور خاموش نظر آتے ہیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article