عدالتیں دباؤ کا شکار، عدالتی نظام انصاف دینے میں مکمل ناکام ہو چکا ہے ، ڈاکٹر صبیحہ بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی مرکزی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں گل زادی کو سنائی جانے والی عمر قید کی سزا اور بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ پاکستان کے عدالتی نظام کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔

ڈاکٹر صبیحہ نے انکشاف کیا کہ گل زادی اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دیگر رہنماؤں کو سزائیں سناتے وقت خود ججز نے اعتراف کیا ہے کہ وہ شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں عدلیہ کی آزادی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے اور فیصلے عدلیہ کے بجائے کہیں اور سے مسلط کیے جا رہے ہیں۔

بلوچستان کی سنگین صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پورے خطے کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ مختلف علاقوں میں کرفیو جیسا ماحول قائم ہے اور عام شہریوں کی زندگیوں پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

حکام کے مذاکراتی دعوؤں کی حقیقت بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے کہا کہ انتظامیہ اور حکام کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے بی وائی سی رہنماؤں سے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا، لیکن ان کا اصل مقصد مطالبات سننا نہیں بلکہ ہمیں خاموش کرانا تھا۔

انہوں نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا: "ہمیں اس وقت تک خاموش نہیں کرایا جا سکتا جب تک بلوچستان میں مظالم اور ناانصافیوں کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔”

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article