امریکا: چینی صدر کے استقبال کے لیے ٹرمپ خود فوجی اڈے پر پہنچ گئے

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کے استقبال کے لیے ایک ایسا قدم اٹھایا جسے مبصرین نے غیر معمولی قرار دیا۔ بدھ کی شام واشنگٹن کے قریب واقع اینڈریوز ملٹری بیس پر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ نے خود ریڈ کارپٹ پر شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ پینگ لی یوان کا استقبال کیا۔

بی بی سی کے وائٹ ہاؤس کے نامہ نگار برنڈ ڈیبوسمین جونیئر، جو اس تقریب کی کوریج کے لیے اینڈریوز ایئر فورس بیس پر موجود تھے، کے مطابق چینی صدر کے خیرمقدم کے لیے غیر معمولی طور پر وسیع اور شاندار فوجی انتظامات کیے گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے اتحادی رہنماؤں اور اہم امریکی شراکت داروں کے متعدد دوروں کی کوریج کی ہے، لیکن اس نوعیت کا استقبال پہلے کبھی نہیں دیکھا۔‘

عام طور پر سرکاری دوروں پر آنے والے غیر ملکی رہنما وائٹ ہاؤس کے شمالی داخلی دروازے سے داخل ہوتے ہیں اور ان کا استقبال وہاں کیا جاتا ہے، جبکہ غیر رسمی ملاقاتوں میں انھیں کسی نسبتاً کم نمایاں راستے سے اندر لایا جاتا ہے۔ تاہم شی جن پنگ کے لیے اختیار کیا گیا طریقہ کار ان دونوں روایات سے مختلف تھا۔

یہ 1962 کے بعد پہلا موقع ہے کہ کسی امریکی صدر نے ذاتی طور پر کسی غیر ملکی رہنما کا فوجی اڈے پر استقبال کیا ہو۔ اس سے قبل اُس وقت کے امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے برطانوی وزیر اعظم ہیرالڈ میکملن کا ایک فوجی اڈے پر خیرمقدم کیا تھا۔

یہ غیر معمولی استقبال اس اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے جو ٹرمپ انتظامیہ اس دورے کو دے رہی ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان مصنوعی ذہانت، دوطرفہ تجارت، ایران سے متعلق کشیدگی اور تائیوان پر بیجنگ کے دعوے سمیت متعدد اہم امور پر تبادلۂ خیال متوقع ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ گذشتہ سال مئی میں جب ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کا دورہ کیا تھا تو انھیں اس نوعیت کا خصوصی استقبال نہیں ملا تھا، جس سے موجودہ دورے کی سفارتی اہمیت مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article