25 حملوں میں پاکستانی فوج کے 18 اہلکار ہلاک، سرکاری تنصیبات پر کنٹرول حاصل کیے،بی ایل اے

ایڈمن
ایڈمن
12 Min Read

بلوچ لبریشن آرمی( بی ایل اے)کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں 25 حملوں میں پاکستانی فوج کے 18 اہلکاروں کی ہلاکت سمیت سرکاری تنصیبات کا کنٹرول تحویل میں لینے کی ذمہ داری قبول کرلی۔

ترجمان کے مطابق بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے مختلف علاقوں میں پے در پے پچیس کارروائیوں کے دوران قابض پاکستانی فوج کے اٹھارہ اہلکاروں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کردیا۔ سرمچاروں نے مند اور خضدار میں تین اہم کارروائیوں کے دوران مختلف علاقوں اور تھانوں کا مکمل کنٹرول اپنی تحویل میں لے لیا، جبکہ قابض فوج سے منسلک عسکری تنصیبات کو بھی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔ دشمن کے ساتھ مختلف مقامات پر ہونے والی شدید جھڑپوں اور معرکوں میں بی ایل اے کے دس جانثار سرمچار شہادت کے مرتبے پر فائز ہو گئے۔

بیان میں کارروائیوں کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا گیا کہ 14 ستمبر کو پنجگور کے علاقے گوارگو میں سرمچاروں نے ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں کو مسلح حملے میں نشانہ بنا کر نقصانات سے دوچار کیا۔

15 ستمبر کو پنجگور میں گوارگو اور فتح علی کے درمیان سرمچاروں نے جاسوسی کیمروں کے لیئے نصب ایک مواصلاتی ٹاور کو دھماکے سے تباہ کردیا۔

16 ستمبر کو کیچ کے علاقے کولواہ کے بدرنگ میں بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کے قافلے کو اس وقت گھات لگا کر نشانہ بنایا جب وہ کسی استحصالی کمپنی کو سیکیورٹی فراہم کرنے جا رہے تھے، اس حملے کے نتیجے میں قابض فوج کے چار اہلکار موقع پر ہی ہلاک اور مزید پانچ زخمی ہوگئے۔ دریں اثناء، تربت کے علاقے کلاتک میں مینو کراس کے مقام پر قابض پاکستانی فوج کے قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا جس میں دو دشمن اہلکار ہلاک اور کم از کم چار زخمی ہوگئے۔ مزید برآں، خاران میں دالی کے مقام پر قابض فوج کو گھات کا نشانہ بنایا گیا جس میں ایک دشمن اہلکار ہلاک اور کم از کم مزید دو زخمی ہوگئے۔ اسی روز تمپ کے علاقے رودبن میں سرمچاروں نے قابض فوج کے قافلے کو حملے کا نشانہ بناکر جانی و مالی نقصانات سے دوچار کیا۔

17 ستمبر کو خضدار کے علاقے سونارو میں سرمچاروں نے قابض فوج کی گاڑی کو آئی ای ڈی دھماکے میں نشانہ بنا کر نقصانات سے دوچار کیا۔ مستونگ کے علاقے کردگاپ میں سرمچاروں نے کوئٹہ تا تفتان تجارتی روٹ پر مرکزی پل کو دھماکے سے اڑا کر تباہ کر دیا۔

اسی روز خاران سے سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج اور ڈیتھ اسکواڈ کے آلہ کار محبوب ولد مولا بخش ماندائی سکنہ برشونکی کو حراست میں لے لیا۔ محبوب نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ وہ صوفی ممتاز کی سرپرستی میں قابض فوج کے لیئے بطور مخبر کام کرتا رہا ہے۔ آلہ کار نے انکشاف کیا کہ اس نے ہبڑ میں ہوٹل کے قریب ایک ٹریکنگ چپ چھپایا جبکہ لجے میں دو مقامات پر ٹریکنگ چپ چھپائے، جن کی نشاندہی پر قابض فوج نے ڈرون حملے کیئے۔ آلہ کار نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ نوشکی کی کچکی پوسٹ سے تافوئی اور خاران سے پتکن پوسٹ تک قابض فوج کے لیئے اسلحہ و گولہ بارود گاڑی میں چھپا کر منتقل کرتا رہا ہے۔ آلہ کار محبوب نے بتایا کہ وہ قابض فوج کے لیئے خاران، لجے اور گردو نواح میں راستوں کی کلئرینس میں بھی پیش پیش رہا ہے۔ آلہ کار نے یہ بھی بتایا کہ وہ صوفی ممتاز کی سرپرستی میں چوری اور ڈکیتی کی مختلف وارداتوں میں ملوث رہا ہے، جن میں برشونکی میں سرور کے باغات سے سولر انورٹرز کی چوری اور مرکزی شاہراہ سے اناج سے بھرے ٹرک کی ڈکیتی شامل ہیں۔ آلہ کار محبوب کے خلاف بلوچ قومی غداری کے سنگین جرائم پائے جانے پر اسے بلوچ قومی عدالت کی طرف سے سزائے موت سنائی گئی، جس پر سرمچاروں نے فوری عمل درآمد کرتے ہوئے اسے کیفرِ کردار تک پہنچا دیا۔

اسی روز پنجگور کے علاقے گوارگو میں سرمچاروں نے قابض فوج کو ایک حملے میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں قابض فوج کی ایک گاڑی براہِ راست حملے کی زد میں آنے سے ناکارہ ہو گئی اور اس میں سوار چار اہلکار موقع پر ہی ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے، سرمچاروں نے قابض فوج کے ایک کواڈ کاپٹر کو بھی مار گرایا۔ اس کے بعد قابض فوج اور سرمچاروں کے مابین طویل جھڑپیں جاری رہیں، اور ان جھڑپوں میں بی ایل اے کے چار سرمچار شفیق عرف زگرین، ساکم عرف میران، حبیب عرف خالد اور صفی اللہ عرف امیر جامِ شہادت نوش کرگئے۔

18 ستمبر کو سرمچاروں نے مند کے علاقے بلوچ آباد اور بلو کا کنٹرول حاصل کرلیا۔ سرمچاروں نے تمام اہم داخلی راستوں پر ناکہ بندیاں قائم کیں اور اس دوران عوامی اجتماعات سے خطاب کیا۔ بزدل قابض فوج نے کواڈ کاپٹرز کا استعمال کرتے ہوئے عام آبادیوں کو نشانہ بنایا جن میں پانچ افراد زخمی ہوگئے، جبکہ سرمچاروں نے دشمن کے ایک کواڈ کاپٹر کو فائرنگ کرکے مار گرایا۔ اسی روز ماشکیل کے علاقے گلوگہ میں سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کی دو گاڑیوں کو گھات لگا کر حملے میں نشانہ بنایا جن میں سے ایک مکمل تباہ ہوگئی، اور اس حملے میں قابض فوج کے تین اہلکار ہلاک اور پانچ سے زائد زخمی ہوگئے۔

مزید برآں، بسیمہ کے علاقے پتک میں معدنیات لے جانے والی ایک استحصالی گاڑی کو نذرِ آتش کرکے تباہ کر دیا گیا، جبکہ نوشکی کے علاقے بٹو میں جاسوسی کیمروں کے لیے نصب ایک ٹاور کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔

19 ستمبر کو مستونگ کے علاقے شیرناپ میں ناگمان کے مقام پر سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کی گاڑیوں کو گھات لگا کر حملے میں نشانہ بنایا جہاں قابض فوج اور سرمچاروں کے مابین طویل جھڑپیں جاری رہیں؛ ان جھڑپوں میں دشمن کے متعدد اہلکار ہلاک و زخمی ہو گئے، جبکہ بعد ازاں قابض فوج نے بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سرمچاروں کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں مزید چار سرمچار امیر عباس کرد عرف ساجد، عبدالحلیم محمد شہی عرف دانش، حکمے اللہ لہڑی عرف فہد اور محمد نسیم لہڑی عرف گروک شہادت کے مرتبے پر فائز ہو گئے۔

20 ستمبر کو نوشکی شہر میں شہید بالاچ خان اسٹیڈیم کے قریب بائی پاس روڈ پر سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کو اس وقت حملے میں نشانہ بنایا جب وہ ناکہ بندی کی آڑ میں عوام کو ہراساں کررہے تھے، اس حملے میں قابض فوج کے دو اہلکار موقع پر ہلاک اور کم از کم چار زخمی ہوگئے۔ اسی روز سرمچاروں نے بلیدہ کے علاقے کوشک میں قابض فوج کی ایک پوسٹ پر گرنیڈ لانچر سے متعدد گولے داغ کر دشمن کو بھاری نقصانات سے دوچار کیا۔

21 ستمبر کو سرمچاروں نے مند کے علاقے ردیگ کا کنٹرول حاصل کرلیا، اہم مقامات پر ناکہ بندیاں قائم کیں اور اس دوران قابض فوج کے مرکزی کیمپ پر بھاری و خودکار ہتھیاروں سے حملہ کرکے نقصانات سے دوچار کیا، جبکہ سرمچاروں کے ایک دوسرے دستے نے کسٹم پوسٹ کا کنٹرول حاصل کرکے اسے نذرِ آتش کرکے تباہ کردیا۔ اسی روز واشک میں زیارت کراس کے مقام پر سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے لیئے راشن لے جانے والی گاڑی کو سامان سمیت اپنی تحویل میں لے لیا۔

22 ستمبر کو کوئٹہ سے متصل دشت کے علاقے تیرہ میل میں سرمچاروں نے قابض فوج کے بم ڈسپوزل اسکواڈ کے پیدل اہلکاروں کو آئی ای ڈی دھماکے میں نشانہ بنایا جس میں ایک اہلکار موقع پر ہلاک اور مزید ایک زخمی ہو گیا۔ اسی روز خضدار کے علاقے باغبانہ میں سرمچاروں نے پولیس تھانے کا مکمل کنٹرول حاصل کر کے وہاں موجود تمام اسلحہ اور جنگی سازوسامان اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس دوران پولیس (اے ٹی ایف) اور ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں نے علاقے میں پیش قدمی کی کوشش کی جسے سرمچاروں کے ایک دستے نے گھات لگا کر حملے میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ڈیتھ اسکواڈ کے متعدد کارندے ہلاک ہوگئے جبکہ ایس ایچ او منیر عالم جتک سمیت کئی پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

23 ستمبر کو کیچ کے علاقے ہیرونک میں سرمچاروں نے قابض فوج کی نقل و حرکت کو آئی ای ڈی دھماکے کا نشانہ بناکر نقصانات سے دوچار کیا۔

اس کے علاوہ، چھ ستمبر کو مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں قابض پاکستانی فوج کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں بی ایل اے کے دو سرمچار عرفان مینگل عرف خلیل اور رفیع اللہ گرگناڑی عرف تنویر شہادت کے مرتبے پر فائز ہو گئے تھے۔

ترجمان نے آخر میں کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ قومی وسائل کی لوٹ مار، ڈیتھ اسکواڈز کی سرپرستی اور قابض ریاست کے استحصالی ہتھکنڈوں کے خلاف ہماری عسکری کارروائیاں پوری قوت سے جاری رہیں گی۔ تنظیم ان تمام دس عظیم شہدا سنگت شفیق عرف زگرین، سنگت ساکم عرف میران، سنگت حبیب عرف خالد، سنگت صفی اللہ عرف امیر، سنگت امیر عباس کرد عرف ساجد، سنگت عبدالحلیم محمد شہی عرف دانش، حکمت اللہ لہڑی عرف فہد، محمد نسیم لہڑی عرف گروک، عرفان مینگل عرف خلیل اور رفیع اللہ گرگناڑی عرف تنویر کے کردار اور ان کی قربانیوں کو سرخ سلام پیش کرتی ہے۔ ہمارے سرمچاروں کی یہ قربانیاں اور معاشی ناکہ بندی کی حکمت عملی قابض فوج کو اس کے ہر محاذ پر شکست سے دوچار کررہی ہے۔ جب تک آخری غدار کا صفایا اور آزاد و خودمختار بلوچستان کا قیام عمل میں نہیں آتا، بی ایل اے کی یہ عسکری جدوجہد ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید شدت اختیار کرتی جائے گی۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article