جنگ کے باعث کئی ماہ سکول بند رہنے کے بعد ایران کے ایک کروڑ 60 لاکھ سے زائد طلبہ دوبارہ تعلیمی اداورں میں پہنچے اور نئے تعلیمی سال کا پہلا دن مکمل کیا۔
29 مارچ کو امریکہ اور اسرائیل کے بیک وقت حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے پہلے ہی روز صوبہ ہرمزگان کے شہر میناب میں ایک سکول کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں 178 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر بچے تھے۔
جنگ شروع ہونے کے بعد سکولوں میں تدریسی سرگرمیاں معطل کر دی گئی تھیں۔
میناب میں ایران کے نائب صدر برائے سائنس و ٹیکنالوجی حسین افشین نے آج ایک پرائمری سکول میں گھنٹی بجا کر نئے تعلیمی سال کے آغاز کا اعلان کیا۔
اس سال نئے تعلیمی سال کے آغاز کی تقریب دو روز قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی موجودگی میں منعقد کی گئی تھی، جس کے بعد وہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک روانہ ہو گئے۔