بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے ایڈیشنل سیشن جج-I قادر شاہ بخاری کی جانب سے کیس نمبر 15/22 میں گلمعزادی بلوچ کو سنائی گئی عمر قید کی سزا کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ایک بائسڈ اور پہلے سے طے شدہ فیصلہ قرار دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) گل زادی بلوچ کو سنائی گئی عمر قید کی سزا کی شدید مذمت کرتی ہے۔ بی وائی سی پہلے ہی اس مقدمے کی سماعت کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کر چکی تھی۔ جیسا کہ بی وائی سی نے 8 ستمبر 2026 کو واضح کیا تھا کہ متعلقہ جج نے بارہا یہ بات تسلیم کی تھی کہ ان پر شدید دباؤ ہے اور انہیں عمر قید یا سزائے موت سنانی پڑ سکتی ہے۔ مقدمے کے باقاعدہ اختتام سے قبل جج کے یہ الفاظ عدلیہ کی آزادی اور بلا تعصب کارروائی کے بنیادی اصولوں کی سنگین پامالی تھے، اور آج کا فیصلہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ فیصلہ پہلے سے طے شدہ تھا، کوئی اتفاقی جملہ نہیں تھا۔
ترجمان کے مطابق بی وائی سی نے 7 ستمبر کو یہ بات بھی ریکارڈ پر لائی تھی کہ وکلائے دفاع کی غیر موجودگی اور وکلاء کی ہڑتال کے باوجود عدالت نے کارروائی آگے بڑھائی اور صفائی کے وکیل کے بغیر ہی گواہ پر جرح کی، جو کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 10-A اور ICCPR کے آرٹیکل 14(3)(b) اور (d) کے تحت فراہم کردہ ‘منصفانہ ٹرائل’ (Fair Trial) کی ضمانتوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ گزشتہ تین ماہ کے دوران بی وائی سی کی قیادت کے خلاف عمر قید کی تیسری سزا ہے۔ اس سے قبل جون میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہجی کو بھی اسی طرح عمر قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔ سزاؤں کا یہ مسلسل پیٹرن اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ عدلیہ کو کیسز کی شفاف سماعت کے بجائے تحریک کی قیادت کو منظرِ عام سے ہٹانے کے لیے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ بی وائی سی اس متنازع فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے، کیونکہ جو جج خود سزا دینے کے لیے دباؤ کا اعتراف کرے، اسے کسی صورت غیر جانبدار نہیں Mana جا سکتا۔ عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی غیر جانبداری کو ثابت کرے۔ ان تمام تر ظالمانہ سزاؤں کے باوجود گلمعزادی بلوچ اور بی وائی سی کی تمام قیادت باہم متحد و پرعزم ہے اور سچائی، جبری لاپتہ افراد کی بازیابی اور بلوچوں کے بنیادی حقوق کے لیے ہماری پرامن جدوجہد بغیر کسی خوف کے جاری رہے گی۔
بی وائی سی نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپیلٹ کورٹس (بالا عدالتوں) اور آئینی حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس عمر قید کی سزا کا فوری اور آزادانہ جائزہ لیں۔ متعلقہ جج کے اعترافات اور آئین سے انحراف کے رویے کی تحقیقات کرائی جائیں۔ عدالتی عمل کو سیاسی انتقام اور سزاؤں کے آلے میں تبدیل کرنے کے اس سلسلے کو فوری بند کیا جائے اور قانون کی حکمرانی کو بحال کیا جائے۔