خدیجہ و صفیہ بلوچ کیجبری پریس کانفرنسز دم توڑتی ریاستی بیانیے کو زندہ رکھنے کی ناکام کوشش ہے،بی وائی سی

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے اپنے ایک تفصیلی بیان میں خدیجہ بلوچ اور صفیہ بلوچ کی جبری گمشدگی کے بعد ان سے کی جانے والی پریس کانفرنسز کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے سے جبری گمشدگی کا شکار بلوچ خواتین سے جبر کے تحت بیانات دلوانا بلوچستان میں ریاست کے دم توڑتے بیانیے کو مصنوعی طریقے سے زندہ رکھنے کی ناکام کوشش ہے۔

بی وائی سی کے مطابق، بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے جو انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی طویل تاریخ بن چکا ہے۔ ریاست اس جرم کے خاتمے، متأثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی اور جبری گمشدگیوں کو روکنے کے بجائے اسی جبر کو اپنے بیانیے کی تشکیل کے لیے ایک آلے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف پیدا ہونے والی وسیع عوامی مزاحمت اور سیاسی شعور کے جواب میں ریاستی جبر میں مزید شدت لائی گئی ہے۔ خصوصاً گزشتہ ایک سال کے دوران بلوچ خواتین، بشمول نوجوان لڑکیوں اور حاملہ خواتین کو جبری طور پر لاپتہ کرنے کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔ جبر کی انتہا یہ ہے کہ خواتین کو ان کے خاندانوں سے الگ کر کے جبری تحویل میں رکھا جاتا ہے اور پھر ایک مخصوص ریاستی ایجنڈے کے تحت میڈیا کے سامنے لا کھڑا کیا جاتا ہے۔

خدیجہ بلوچ کے والدین نے بولان میڈیکل کالج (BMC) کے سامنے ایک ماہ تک مسلسل احتجاج کر کے اپنی بیٹی کی بازیابی کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا واضح موقف تھا کہ ان کی بیٹی کو جبری لاپتہ کرنے کے بعد فورسز کی جانب سے جبری پریس کانفرنس کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ ایک مغوی کو میڈیا کے سامنے لا کر اس کے بیان کو "رضاکارانہ سیاسی اظہار” قرار دینا حقیقت کو چھپا نہیں سکتا۔

20 سالہ صفیہ بلوچ کے حوالے سے بنیادی اور آئینی سوالات آج بھی قائم ہیں کہ انہیں جبری گمشدگی کے دوران کہاں رکھا گیا؟ کس قانونی اختیار کے تحت حراست میں رکھا گیا اور ان کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟ ان سوالات کا جواب کسی سجی دھجی پریس کانفرنس کے بجائے صرف شفاف قانونی کارروائی اور آزادانہ تحقیقات سے ہی ممکن ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے واضح کیا کہ کسی بھی بلوچ خاتون کو جبری لاپتہ رکھنا اور پھر میڈیا پر پیش کرنا انسانی آزادی، شخصی وقار اور بنیادی حقوق کی پامالی ہے۔ بلوچ قوم نہ ایسے جبر کو خاموشی سے قبول کرے گی اور نہ ہی ایسے جبری بیانات کو حقیقت کا متبادل تسلیم کرے گی۔

بی وائی سی نے بلوچ عوام سے اپیل کی ہے کہ جبری گمشدگی کے ہر واقعے کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں اور اقوامِ متحدہ کے پاس لازمی درج کرائیں۔تمام کیسز کی مکمل دستاویز کاری (Documentation) کو یقینی بنائیں۔ اپنے پیاروں کی محفوظ بازیابی اور انسانی حقوق کی بحالی کے لیے خاموشی کے بجائے منظم سیاسی جدوجہد جاری رکھیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article