کوئٹہ، تربت و مستونگ سے مزید 4 نوجوان جبری لاپتہ، مستونگ سے لاپتہ سیما بلوچ بازیاب

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان میں پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں (CTD, FC, MI) کی جانب سے جبری گمشدگیوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق کوئٹہ، کیچ اور مستونگ سے مزید چار بلوچ نوجوانوں کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ 11 ستمبر کو مستونگ سے لاپتہ کی جانے والی بلوچ خاتون سیما بلوچ بازیاب ہو کر گھر پہنچ گئی ہیں۔

بی وائی سی کے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق امان اللہ بنگلزئی ولد عنایت اللہ بنگلزئی، عمر 13 سال (طالب علم)، ساکن کلی جیو کوئٹہ۔ 20 فروری 2026 کو رات 2:00 بجے سی ٹی ڈی (CTD) نے ان کے گھر کلی جیو کوئٹہ پر چھاپہ مار کر جبری لاپتہ کیا۔

اسی طری طرح فہد انوار ولد انوار، عمر 20 سال (طالب علم)، ساکن ملاءِ بازار تربت، کیچ۔ 19 اگست 2026 کو رات 1:00 بجے عسکری و خفیہ اداروں (MI/FC) نے ان کے گھر سے حراست میں لے کر لاپتہ کیا۔

چنگیز ولد محمد ابراہیم، عمر 24 سال (مزدور)، ساکن النڈور بلیدہ، کیچ۔ 4 ستمبر 2026 کو رات 11:00 بجے آپسر تربت کے مقام سے ایف سی (FC) نے حراست میں لے کر لاپتہ کیا۔

اور احسان بلوچ ولد محمد اسماعیل، عمر 21 سال (ڈرائیور)، ساکن گرگینہ مستونگ۔ 9 ستمبر 2026 کو صبح 9:00 بجے لال پاس چیک پوسٹ مستونگ سے عسکری اداروں (MI/FC) نے حراست میں لیا۔

دوسری جانب، 11 ستمبر 2026 کو کردگاپ مستونگ سے جبری لاپتہ کی جانے والی بلوچ خاتون سیما بلوچ دختر ماسٹر عبداللہ ستار 17 ستمبر 2026 کو کوئٹہ میں بازیاب ہو کر اپنے گھر پہنچ گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق، وہ دورانِ حراست شدید جسمانی و نفسیاتی تشدد کا شکار رہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے تمام کیسز کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کی جانب سے بلوچ نسل کشی اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ شدت کے ساتھ جاری ہے، جس کے خلاف بین الاقوامی سطح پر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article