بلوچستان میں عدالتی نظام ،انصاف کی فراہمی میں مکمل ناکام ، ریاستی جبر کا آلہ کار بن چکا ہے،بی وائی سی

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے بلوچستان کے عدالتی نظام کی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کی عدلیہ پر عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ انصاف کی فراہمی کے ذمہ دار ادارے شہریوں کو انصاف فراہم کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر عدل و انصاف کی دھجیاں اڑانے میں برابر کے شریک بن چکے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس وقت بلوچستان ہائیکورٹ میں چیف جسٹس کامران خان ملاخیل ضمانیوں اور آئینی درخواستوں کی سماعت کر رہے ہیں، جبکہ انسدادِ دہشت گردی (ATC) اور سیشن عدالتوں کی کارروائیوں کی صدارت جسٹس محمد علی مبین اور جسٹس قادر شاہ بخاری کر رہے ہیں۔

بی وائی سی نے الزام عائد کیا ہے کہ چیف جسٹس ہائیکورٹ، بلوچ یکجہتی کمیٹی سے متعلق کیسز میں زیریں عدالتوں پر سزا اور محکومیت یقینی بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ہائیکورٹ میں ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں کی سماعت میں عمدہ تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ جب چیف جسٹس خود زیریں عدالتوں کے فیصلوں پر اثر انداز ہو رہے ہوں اور ان فیصلوں کے خلاف دائر اپیلوں کو روک کر رکھیں، تو عدالتوں سے آزادانہ انصاف کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ چیف جسٹس کا کام عدالتوں کو دباؤ سے بچانا ہوتا ہے، نہ کہ خود دباؤ کا ذریعہ بننا۔

گل زادی بلوچ کا کیس اور عدالتی آزادی پر سوال:

بیان میں گل زادی بلوچ کے کیس کو ایک واضح مثال قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ متعدد مواقع پر بینچ نے اشارہ دیا کہ وہ انہیں سزا نہیں دینا چاہتے، لیکن عدالت کو باقاعدہ ہدایت کی گئی کہ کیا سزا سنائی جائے۔ اگر ججوں کو یہ ہدایت دی جائے کہ انہیں کیا فیصلہ اور کتنی سزا دینی ہے، تو یہ صرف ایک کیس کا معاملہ نہیں رہتا بلکہ پورے عدالتی عمل کی آزادی ختم ہو جاتی ہے۔ فیصلہ عدالت کا ہونا چاہیے، نہ کہ بیرونی دباؤ کا۔

آئینی حقوق کی پامالی اور قانونی دفاع سے محرومی:

بی وائی سی کا کہنا ہے کہ قیادت اور فعال کارکنان کے کیسز میں ان کی مرضی اور رضامندی کے بغیر سرکاری وکیل (State Counsel) مقرر کیے گئے، جبکہ انہیں اپنی پسند کے وکلاء کے ذریعے صفائی کا بنیادی حق دینے سے انکار کر دیا گیا۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی کو عمر قید کی سزا سنائی جا چکی ہے اور ان کے پاس اپیل کا آئینی و قانونی حق موجود ہے، لیکن ان کی اپیلوں پر سماعت میں مسلسل غیر معمولی تاخیر کی جا رہی ہے۔ جب سزا فوری اور بغیر شواہد کے دی جائے اور اپیل کے حق کو التوا کا شکار کر دیا جائے تو یہ انصاف نہیں بلکہ یکطرفہ انتقام ہے۔

بے چہرہ ٹرائلز، بائیکاٹ اور اپیلوں میں تاخیر:

بیان کے مطابق، 13 جون سے بی وائی سی کی قیادت نے "بے چہرہ ٹرائلز” (Faceless Trials) کے خلاف احتجاجاً 20 سماعتوں کا بائیکاٹ کیا ہے۔ ان کارروائیوں کو ختم کرنے اور جسٹس مبین کی تبدیلی کے لیے بلوچستان ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی، مگر اس آئینی درخواست کو مسلسل التوا میں رکھا جا رہا ہے۔ دوسری طرف، گزشتہ چھ ماہ سے ضمانت کی درخواستیں التوا کا شکار ہیں اور کیسز کو لسٹ سے خارج (Delist) کیا جا رہا ہے۔

نیچے کی عدالتوں پر سزا کا دباؤ اور اوپر کی عدالتوں میں تاخیر— اس رویے میں غیر جانبداری کا نام و نشان تک نہیں ہے۔

مطالبات:

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے زور دیا ہے کہ چیف جسٹس آف بلوچستان کو ایک فریق کے بجائے غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ عدلیہ کا بنیادی فرض شہریوں کے بنیادی اور انسانی حقوق، شفاف دفاع کا حق (Right to Defense)، منصفانہ اور آزادانہ ٹرائل (Fair Trial)،اور بروقت انصاف تک رسائی کا تحفظ کرنا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ چیف جسٹس کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ زیریں عدالتیں کسی بھی بیرونی یا عسکری دباؤ کے بغیر فیصلے کرنے کے لیے آزاد ہوں اور ہر متہم شخص کو بروقت اور منصفانہ سماعت کا موقع ملے۔ وہ عدلیہ کبھی انصاف فراہم نہیں کر سکتی جہاں ایک طرف ججوں پر دباؤ ہو اور دوسری طرف اپیلوں کو التوا میں ڈال کر انصاف کا قتل کیا جا رہا ہو۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article