پاکستانی فوج کے ہاتھوں مزید 4 افراد جبری لاپتہ، 2 نوجوان شدید تشدد کے بعد بازیاب

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے مختلف علاقوں سے پاکستانی فوج ، ایف سی ، سی ٹی ڈی اور خفیہ اداروں کے ہاتھوں مزید 4 بلوچ نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا ہے، جبکہ گزشتہ دنوں حراست میں لیے گئے 2 نوجوان شدید جسمانی و نفسیاتی تشدد کے بعد بازیاب ہو کر اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مختلف علاقوں سے پاکستانی فورسز نے کارروائیاں کرتے ہوئے لوگوں کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا ۔

رشید بلوچ ولد قادر بخش (عمر 38 سال)، پیشہ سے کسان، ساکن گورستانی شادی کور، پسنی۔ ایف سی نے 30 اگست 2026 کو ان کے گھر سے حراست میں لے کر لاپتہ کیا۔

لال بلوچ ولد موسیٰ (عمر 36 سال)، پیشہ سے کسان، ساکن گورستانی شادی کور، پسنی۔ ایف سی اہلکاروں نے 30 اگست 2026 کو گھر سے اٹھا کر نا معلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

الطاف بلوچ ولد خان محمد (عمر 43 سال)، پیشہ سے دکاندار، ساکن منگچر، قلات۔ ایف سی اہلکاروں نے 3 ستمبر 2026 کو منگچر میں واقع ان کی دکان سے حراست میں لیا۔

بابا جان ولد محمد جان (عمر 27 سال)، پیشہ سے ٹیکسی ڈرائیور، ساکن کلی قمبرانی، کوئٹہ۔ سی ٹی ڈی اور ملٹری انٹیلیجنس (MI) نے 10 فروری 2026 کو کلی قمبرانی کوئٹہ سے اٹھا کر جبری لاپتہ کیا۔

دوسری جانب ضلع کیچ سے 8 ستمبر 2026 کو جبری لاپتہ کیے جانے والے دو نوجوان جمشیر بلوچ ولد گنگزار بلوچ (ساکن آپسر، تربت، کیچ) اورماہر مزار ولد مزار بلوچ (ساکن آپسر، تربت، کیچ) بازیاب ہو کر اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق 13 ستمبر 2026 کو تربت سے بازیاب ہونے والے ان دونوں نوجوانوں کو دورانِ قید شدید غیر انسانی، جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔

بلوچستان میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور حقوقِ انسانی کے فعال کارکنوں نے جبری گمشدگیوں کی اس لہر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article