بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ 6357ویں روز بھی جاری رہا۔
وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ 19 اگست کو گشکوری ٹاؤن کوئٹہ سے حمیرا اور نجمہ، دونوں دختران عبدالررسول بنگلزئی، کو دو بچوں سمیت مبینہ طور پر سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کیا، جن کے بارے میں تاحال اہلخانہ کو کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچوں کو قانونی جواز اور مقررہ طریقۂ کار کے بغیر حراست میں رکھنا اور عدالت کے سامنے پیش نہ کرنا تشویشناک اور شہریوں کے بنیادی آئینی و قانونی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
نصراللہ بلوچ نے مطالبہ کیا کہ حمیرا، نجمہ اور دونوں بچوں کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے، ان کے مقام اور حیثیت سے اہلخانہ کو آگاہ کیا جائے، اور اگر ان کے خلاف کوئی قانونی الزام ہے تو انہیں مجاز عدالت کے سامنے پیش کرکے قانونی دفاع کا حق دیا جائے۔
اپنے بیان میں وی بی ایم پی نے سہیل تگرانی اور محمد تگرانی کی جبری گمشدگی پر اظہار تشویش کرتے ہوئے ان کی باحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ کیچ کے علاقے خلیل آباد سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ سہیل تگرانی ولد بہرام تگرانی اور 22 سالہ محمد تگرانی ولد ملا سیف اللہ تگرانی 30 اگست سے مبینہ طور پر لاپتہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں نوجوان پیدراک بازار سے واپسی پر مبینہ طور پر مقامی ڈیتھ اسکواڈ کے ہاتھوں حراست میں لیے گئے اور بعد ازاں سیکیورٹی فورسز کے حوالے کیے گئے، جس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی۔
اہلخانہ نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں نوجوانوں کے بارے میں فوری معلومات فراہم کی جائیں۔ اگر ان کے خلاف کوئی مقدمہ یا الزام ہے تو انہیں قانون کے مطابق عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔
وی بی ایم پی نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ سہیل تگرانی اور محمد تگرانی کو فوری بازیاب کیا جائے، ان کے اہلخانہ کو معلومات فراہم کی جائیں اور اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں منظرِ عام پر لاکر عدالت میں پیش کیا جائے۔