بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ کوئٹہ سے پاکستانی فوج ،سیکیورٹی فورسز اور حساس اداروں نے چھاپوں کے دوران مزید 2 بلوچ شہریوں کو جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے، جبکہ گزشتہ 6 ماہ سے لاپتہ ایک شخص ٹارچر سیلوں میں تشدد کے بعد بازیاب ہو کر گھر پہنچ گیا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق کوئٹہ کے مختلف علاقوں سے فورسز نے 2 افراد کو ان کے گھروں پر چھاپے مار کر تحویل میں لیا اور نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔
سفر خان ولد محمد حسن (عمر 42 سال)، پیشہ ڈرائیور، ساکن مسکین اسٹریٹ کیرانی روڈ کوئٹہ۔ انہیں 16 اگست 2026 کو صبح 4:00 بجے ان کے گھر سے حساس اداروں (ISI/MI) اور ایف سی نے چھاپہ مار کر لاپتہ کیا۔
حافظ جمیل احمد ولد چھٹا خان (عمر 21 سال)، پیشہ ٹیلر ماسٹر، ساکن منوجان روڈ ہدہ کوئٹہ۔ انہیں 9 ستمبر 2026 کو رات 2:30 بجے سی ٹی ڈی (CTD) اور آئی ایس آئی نے گھر سے باقاعدہ حراست میں لے کر لاپتہ کیا۔
دوسری جانب، 12 مارچ 2026 سے فورسز کی حراست میں رہنے والے شہری سیف اللہ ولد عطا اللہ (ساکن کلی قمبرانی سریاب روڈ، کوئٹہ) کو 11 ستمبر 2026 کو ہدہ جیل کوئٹہ سے رہا کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سیف اللہ کو تقریباً 6 ماہ تک غیر قانونی اذیت گاہوں میں شدید جسمانی و نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے بعد بازیاب کیا گیا ہے۔