آل پارٹیز کانفرنس : بلوچستان کے وسائل کی لوٹ مار کے خلاف پائیدار سیاسی تحریک چلانے کا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان کی کشیدہ، غیر محفوظ اور پر تشدد صورتحال کے تناظر میں نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر و سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی زیر صدارت اور مرکزی سیکریٹری جنرل میر کبیر جان محمد شہی کی میزبانی میں محمد شہی ہاؤس کوئٹہ میں ایک اہم "آل پارٹیز کانفرنس” (APC) کا انعقاد کیا گیا۔

اجلاس میں بلوچستان کی تمام اہم سیاسی و قومی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی، جن میں جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی صدر سینیٹر مولانا عبدالواسع، عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی صدر عبدالخالق ہزارہ، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے صوبائی صدر احمد جان، بلوچستان نیشنل پارٹی کے موسیٰ بلوچ اور جماعت اسلامی کے زاہد اختر شامل تھے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیاسی رہنماؤں نے متفقہ طور پر کہا کہ اس وقت بلوچستان میں ایک شدید انسانی المیہ جنم لے چکا ہے جہاں انسانی جان کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی۔ بلوچستان میں سیاست، معیشت اور عام زندگی مکمل طور پر معطل ہو کر رہ گئی ہے۔ شاہراہیں اور بارڈرز بند ہیں، جبکہ اعلانیہ و غیر اعلانیہ کرفیو کے باعث اشیائے خوردونوش کی ترسیل رک چکی ہے، جس سے بلوچستان بھر میں خوراک کا شدید بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

رہنماؤں نے زیارت، ہنہ اوڑک اور کھڈکوچہ کے حالیہ واقعات کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ کھڈکوچہ میں پھل دار درختوں کی کٹائی، باغبانوں کو "دہشت گرد” قرار دینا اور شہریوں کو گھروں سے بے دخل کرنا بدترین آمریت کی مثال ہے۔

جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا عبدالواسع نے اپنے خطاب میں کہاکہ عام لوگوں کے لیے ان کی جھونپڑی، ان کا باغ اور ان کی دکان ہی ان کا سب کچھ ہے۔ اگر ان کا کچا گھر، کاروبار اور باغات برباد کیے جائیں گے تو سمجھ لیں کہ ان کا سب کچھ چھن گیا۔

رہنماؤں نے سوال اٹھایا کہ اربوں روپے خرچ کر کے بارڈر پر خاردار تاریں لگانے کے باوجود زیارت اور ہنہ اوڑک جیسے علاقوں میں دہشت گرد کہاں سے آ کر پوری بستیوں کو خالی کرا رہے ہیں؟ اسی طرح دیہی علاقوں میں بجلی کے کھمبے اور ٹرانسفارمرز اکھاڑ کر عوام کو اندھیروں میں دھکیلا جا رہا ہے۔

اے پی سی کے شرکاء نے نشاندہی کی کہ سیاسی جماعتیں اس وقت دو زور آور قوتوں کے درمیان بری طرح پس رہی ہیں۔ ایک طرف حکومت انہیں سہولت کار کا طعنہ دیتی ہے تو دوسری طرف مسلح تنظیموں کے لیے بھی ان کا وجود قابلِ قبول نہیں، جس کی وجہ سے سیاسی کارکن دونوں طرف سے مار کھا رہے ہیں۔

رہنماؤں نے زور دیا کہ پی ڈی ایم (PDM) کے تلخ سیاسی تجربے کے بعد اب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ بلوچستان کی سطح پر ایک پائیدار اور احترام پر مبنی اتحاد قائم کیا جائے۔ اسٹیبلشمنٹ جب بھی معاشی یا سیاسی بحران میں پھنستی ہے تو سیاستدانوں کا کندھا استعمال کرتی ہے، لیکن اب سیاسی و جمہوری جماعتوں کو یکجا ہو کر اپنے حقوق کے لیے ایک بھرپور اور مستقل مزاج سیاسی تحریک کا آغاز کرنا ہوگا۔

کانفرنس میں واضح کیا گیا کہ بلوچستان کے تمام وسائل پر پہلا اور بنیادی حق یہاں کے عوام کا ہے اور اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ تمام اقوام (بلوچ، پشتون، ہزارہ وغیرہ) کے لیے بلوچستان ان کا مشترکہ وطن ہے، اور یہاں کے وسائل کی لوٹ مار کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article