پاکستانی فوج کے ہاتھوں مزید 2 طالب علم جبری لاپتہ، 3 بازیاب

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان میں پاکستانی فوج ،سیکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے جبری گمشدگیوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، جہاں ضلع کیچ اور گوادر سے مزید دو نوجواں کو جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا ہے، جبکہ دوسری جانب مہینوں اور سالوں سے لاپتہ رہنے والے تین افراد عقوبت خانوں کی جابرانہ قید سے بازیاب ہو کر اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات اور تفصیلات کے مطابق جمیل ولد اقبال، دشت (کیچ) کے رہائشی اور ایف ایس سی (FSc) کے 17 سالہ طالب علم جمیل کو 8 ستمبر 2026 کو رات 10:00 بجے میرانی دیم دشت کے مقام سے فرنٹئیر کور (FC) کے اہلکاروں نے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا۔

اسی طرح ریاض احمد ولد پشمبے صلاح، مند (کیچ) کے رہائشی 21 سالہ طالب علم ریاض احمد کو 15 اگست 2026 کو شام 6:00 بجے فضل چوک، گوادر سے ملٹری انٹیلی جنس (MI) کے اہلکاروں نے اٹھا کر ناجبری طور پر لاپتہ کر دیا۔

دوسری جانب ریاستی حراستگاہوں میں غیر انسانی جسمانی و نفسیاتی تشدد کا سامنا کرنے کے بعد تین لاپتہ افراد بازیاب ہو کر اپنے پیاروں سے مل گئے ہیں۔

بختیار احمد ولد عبدالسلام، کلی جمالدینی (نوشکی) کے رہائشی بختیار احمد، جنہیں 23 اگست 2026 کو لاپتہ کیا گیا تھا، 7 ستمبر 2026 کو کوئٹہ سے بازیاب ہو کر گھر پہنچ گئے ہیں۔

دانش ولد محمد رضا زہری، لوٹانی زہری کے رہائشی دانش، جو تقریباً دو ماہ قبل جبری لاپتہ کیے گئے تھے، خاندانی ذرائع کے مطابق محفوظ طریقے سے بازیاب ہو چکے ہیں۔

عدنان سمالانی، ایک طویل اور درناک عرصے یعنی پورے ایک سال تک جبری گمشدگی کا شکار رہنے کے بعد بالآخر باحفاظت بازیاب ہو کر اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔

حقوقِ انسانی کی تنظیموں اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ بازیاب ہونے والے افراد دورانِ حراست شدید تشدد اور نفسیاتی اذیت سے گزرتے ہیں، جبکہ سیکڑوں دیگر بلوچ نوجوان اب بھی انہی عقوبت خانوں میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں جن کی فوری بازیابی کے لیے عالمی برادری کا تحرک ناگزیر ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article