کراچی سے نوجوان جبری لاپتہ، شاہ نورانی سے جبری لاپتہ کریم اور نصیر کی بازیابی کا مطالبہ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

پاکستانی فوج کے ہاتھوں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے، کراچی سے مزید ایک نوجوان کی جبری گمشدگی کی اطلاع موصول ہوئی ہے، جبکہ بلوچستان کے شاہ نورانی کے علاقے سے لاپتہ کیے گئے دو نوجوانوں کریم دینارزئی اور نصیر دینارزئی کے اہلخانہ نے اپنے پیاروں کی تشویشناک صورتحال پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور حکام بالا سے فوری مداوا کا مطالبہ کیا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے مطابق 9 ستمبر 2026 کو رات کے وقت (تقریباً 2:30 بجے) کراچی کے علاقے حاجی شاہ علی گوٹھ، شرفی سے 25 سالہ ڈرائیور ذاکر رزاق ولد عبدالرزاق کو سی ٹی ڈی (CTD) اور ملٹری انٹیلی جنس (MI) کے اہلکاروں نے حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔ واقعے کے بعد سے نوجوان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں مل سکی ہیں جس سے اہلخانہ شدید اضطراب کا شکار ہیں۔

دوسری جانب شاہ نورانی سے جبری لاپتہ نصیر دینارزئی اور کریم دینارزئی کے متاثرہ خاندانوں نے پریس کانفرنس اور بیانات کے ذریعے اپنے پیاروں کی باحفاظت بازیابی کے لیے فریاد کی ہے۔

خاندان کے مطابق اس معاملے کا آغاز اس وقت ہوا جب پہلے کریم کے والد اور نصیر کے والد کو اغوا کر کے وڈھ لے جایا گیا اور وہاں انہیں کئی ماہ تک مبینہ نجی جیل میں رکھا گیا۔ بعد ازاں کریم کے چھوٹے بھائی کو گھر سے اٹھایا گیا۔ کریم کی والدہ نے جب قرآنِ پاک کا واسطہ دے کر اپنے چھوٹے بیٹے کی رہائی کی التجا کی تو ان سے شرط رکھی گئی کہ کریم کو ان کے حوالے کیا جائے تب چھوٹے بیٹے کو چھوڑا جائے گا۔

اہلخانہ کے مطابق، قرآنِ پاک پر کیے گئے وعدے اور قبائلی معتبرین کی موجودگی میں 30 اگست 2026 کو کنگوری ریسٹ ہاؤس (شاہ نورانی) میں کریم اور نصیر کو اس یقین دہانی پر سپرد کیا گیا کہ وہ محفوظ طریقے سے گھر لوٹ آئیں گے، تاہم اس کے بعد دونوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کی جبری گمشدگی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

خاندان کا مزید دعویٰ ہے کہ معاملے کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد دباؤ کے تحت کریم کے والد سے ایک ویڈیو بھی ریکارڈ کروائی گئی۔ بعد ازاں دونوں لاپتہ افراد کو پہلے کراچی اور پھر وہاں سے ٹھٹھہ کے ایک فارم ہاؤس منتقل کیا گیا جہاں مبینہ طور پر گورگین مینگل اور ان کے ڈیتھ اسکواڈ / امن فورس کے اہلکار انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

لاپتہ نوجوانوں کے خاندان اور بلوچ یکجہتی کمیٹی نے انسانی حقوق کی عالمی و قومی تنظیموں اور حکومتِ سندھ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ ٹھٹھہ کے اس مبینہ فارم ہاؤس سے کریم دینارزئی اور نصیر دینارزئی سمیت کراچی سے تازہ لاپتہ کیے گئے ذاکر رزاق کی فوری اور باحفاظت بازیابی کو یقینی بنائیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article