بلوچستان کے ضلع مستونگ کی تحصیل دشت سے رواں سال مئی کے مہینے میں پاکستانی فوج کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ کیے گئے نوجوان ریاض ساتکزئی کی والدہ زیب النساء نے ایک ویڈیو بیان کے ذریعے اپنے بیٹے کی فوری اور بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔
لاپتہ ریاض ساتکزئی کی والدہ زیب النساء کے مطابق ان کے بیٹے کو رواں سال مئی میں فرنٹیئر کانسٹیبلری (FC) کے اہلکاروں نے دشت (ضلع مستونگ) کے علاقے میں قائم ڈیگاری کراس چیک پوسٹ سے حراست میں لیا اور اس کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
ویڈیو بیان میں زیب النساء نے شدید دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاض کی حراست کو چار ماہ کا عرصہ بیت چکا ہے، لیکن آج تک انتظامیہ یا سیکورٹی اداروں کی جانب سے ان کے بیٹے کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ اپنے پیارے کی عدم موجودگی اور نامعلوم حالت کے باعث ان کا پورا خاندان شدید ذہنی اذیت اور پریشانی میں مبتلا ہے۔
مظلوم والدہ نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور حکامِ بالا سے التجا کی ہے کہ ان کے بیٹے ریاض ساتکزئی کو فوراً منظرِ عام پر لا کر بحفاظت بازیاب کیا جائے اور خاندان کو ان کی سلامتی سے متعلق فوری اور شفاف معلومات فراہم کی جائیں۔