بلوچستان کے ضلع مستونگ کی تحصیل کردگاپ میں پاکستانی فوج کی جانب سے عام آبادی پر گولہ باری کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 3 افراد ہلاک اور متعدد کی شدید زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ منگل کی شام تقریباً سات بجے تحصیل کردگاپ کے علاقے گرگینہ کلی پسند خان میں واقع سویلین آبادی کو ایف سی کی جانب سے اندھا دھند گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا۔
کہا جارہا ہے کہ فورسز کی جانب سے فائر کیے گئے بھاری گولے گھروں پر جا گرے، جس کے نتیجے میں مولوی عبدالجلیل سرپرہ کی والدہ اور ان کی دو معصوم بچیاں موقع پر ہی ہلاک ہو گئیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گولہ باری کے نتیجے میں متعدد دیگر شہری بھی شدید زخمی ہوئے ہیں، جن کی حتمی تعداد کا فوری طور پر علم نہیں ہو سکا ہے۔ علاقے میں طبی سہولیات کے فقدان کے باعث تمام شدید زخمیوں کو ہنگامی بنیادوں پر کوئٹہ منتقل کیا جا رہا ہے، جہاں کئی افراد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
ایف سی کی اس کھلی ناکہ بندی اور عام شہریوں پر گولہ باری کے واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس اور عوامی اشتعال پھیل گیا ہے۔ مقامی و عوامی حلقوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ شہدا کی لاشیں کوئٹہ-نوشکی این-40 (N-40) شاہراہ پر رکھ کر غیر معینہ مدت کے لیے احتجاجی دھرنا دیں گے اور شاہراہ کو ہر قسم کے ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔
واقعہ سے متعلق اب تک حکومت کا موقف سامنے نہیں آیا۔