بلوچستان کے علاقے کیچ اور کوئٹہ میں پاکستانی فوج اور انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے رات کے اندھیرے میں چھاپوں اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ تیز تر ہو گیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق تربت سے 2 وٹنری ڈاکٹروں اور کوئٹہ سے ایک سیکورٹی گارڈ کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 8 ستمبر 2026ء کی درمیانی شب فورسز نے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے درج ذیل شہریوں کو حراست بعد لاپتہ کیا۔
ڈاکٹر جمشیر بلوچ: گنگزار بلوچ کے 28 سالہ فرزند پیشے کے لحاظ سے وٹنری ڈاکٹر ہیں اور ان کا تعلق آپسر، تربت (ضلع کیچ) سے ہے۔ انہیں 8 ستمبر کی رات 1:00 بجے ایف سی (FC) اور ایم آئی (MI) کے اہلکاروں نے ان کے گھر پر چھاپہ مار کر جبری طور پر لاپتہ کیا۔
ڈاکٹر ماہر مزار: مزار بلوچ کے 28 سالہ فرزند پیشے کے لحاظ سے وٹنری ڈاکٹر اور آپسر، تربت کے رہائشی ہیں۔ انہیں بھی 8 ستمبر کی رات 1:30 بجے ان کی رہائش گاہ سے ایف سی اور ایم آئی کے اہلکاروں نے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا۔
حبیب الرحمن بلوچ: محمد ابراہیم کے 45 سالہ فرزند پیشے کے لحاظ سے سیکورٹی گارڈ ہیں اور کلی قمبرانی (قمبرانی روڈ، کوئٹہ) کے رہائشی ہیں۔ انہیں 8 ستمبر کو رات 2:00 بجے ان کے گھر سے آئی ایس آئی (ISI) اور سی ٹی ڈی (CTD) کے اہلکاروں نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا۔
جبری گمشدگی کا شکار ہونے والے شہریوں کے بارے میں تاحال کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں اور نہ ہی انہیں کسی قانونی عدالت میں پیش کیا گیا ہے، جس کے باعث ان کے خاندان شدید ذہنی کرب اور تشویش میں مبتلا ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بلوچستان میں مسلسل پڑھتے ہوئے ان واقعات پر فوری نوٹس کا مطالبہ کیا ہے۔