بلوچستان کے ضلع خضدار سے اطلاعات ہیں کہ بلوچ نیشنل موومنٹ (BNM) کے سابق وائس چیئرمین کے بھائی کو پاکستانی فوج کے کیمپ کے قریب سے ڈیتھ اسکواڈ کے اہلکاروں نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بی این ایم کے سابق وائس چیئرمین ڈاکٹر خدا بخش بلوچ کے بھائی اور باغبانہ کے رہائشی قادر بخش بلوچ باغبانہ سے خضدار کی جانب سفر کر رہے تھے کہ 6 ستمبر 2026ء کو صبح تقریباً 10:00 بجے پاکستانی فوج کے ایک کیمپ کے قریب پہلے سے موجود ڈیتھ اسکواڈ کے مسلح افراد نے انہیں روک کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔
واقعے کے کئی دن گزر جانے کے باوجود ان کے بارے میں کوئی معلوماتی سراغ نہیں مل سکا ہے اور ان کی موجودہ حالت و مقام تاحال پردۂ راز میں ہیں۔
رپورٹس کے مطابق قادر بخش بلوچ کو اس سے قبل بھی دو مرتبہ ماورائے آئین و قانون جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
پہلی بار انہیں مارچ 2021 میں ان کے بیٹے سمیت پاکستانی فورسز نے حراست میں لے کر لاپتہ کیا تھا، تاہم کچھ دنوں بعد انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔
دوسری بار جون 2026 کو فورسز اور پراکسیز نے انہیں دوبارہ لاپتہ کیا اور تین روز کی غیر قانونی حراست کے بعد انہیں چھوڑا گیا۔
تیسری بار6 ستمبر 2026 اتوار کو پیش آنے والا واقعہ ان کی زندگی کی تیسری جبری گمشدگی ہے۔
بی این ایم اور مقامی ذرائع نے قادر بخش بلوچ کی مسلسل جبری گمشدگی اور زندگی کو لاحق خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسانی حقوق کی تنظیموں سے ان کی محفوظ بازیابی کے لیے آواز اٹھانے کی اپیل کی ہے۔