بلوچستان میں پاکستانی فوج، خفیہ اداروں (ISI/MI) اور سی ٹی ڈی (CTD) کی جانب سے ماورائے آئین و قانون جبری گمشدگیوں کا سلسلہ شدت کے ساتھ جاری ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے مختلف اضلاع سے مزید 3 بلوچ نوجوانوں کو حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا گیا ہے، جبکہ دوسری جانب اذیت خانوں سے 2 لاپتہ افراد بازیاب ہو کر اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی جانب سے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور خفیہ اداروں نے درج ذیل نوجوانوں کو ماورائے قانون اٹھا کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا ہے:
شکیل بلوچ : زرداد پرکانی کے 15 سالہ فرزند پیشے کے لحاظ سے رکشا ڈرائیور اور کلی گوہر آباد سریاب روڈ کوئٹہ کے رہائشی ہیں۔ انہیں 16 اپریل 2026 کو آدھی رات کے وقت (12:00 AM) ان کے گھر سے آئی ایس آئی (ISI) اور سی ٹی ڈی (CTD) نے حراست میں لے کر لاپتہ کیا۔
علی بلوچ : عبدالحئی کے 20 سالہ فرزند طالب علم ہیں اور ان کا تعلق کلی عشقنا، مستونگ سے ہے۔ انہیں 23 اگست 2026 کو رات 3:00 بجے ایم آئی (MI) کے اہلکاروں نے کلی عشقنا مستونگ میں ان کی رہائش گاہ سے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا۔
بختیار احمد : عبدالسلام کے 19 سالہ فرزند پیشے کے لحاظ سے دوکاندار ہیں اور کلی جمال دینی، نوشکی کے رہائشی ہیں۔ انہیں 23 اگست 2026 کو صبح 10:00 بجے کیچی بیگ کوئٹہ سے سی ٹی ڈی، ایف سی اور آئی ایس آئی نے مشترکہ کارروائی کے دوران اٹھا کر لاپتہ کر دیا۔
دوسری جانب فورسز کے عذاب ناک اذیت خانوں سے 2 بلوچ شہری بازیاب ہو کر باحفاظت اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں، جنہیں دورانِ حراست شدید جسمانی و نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
صدام بگٹی : مہوت خان کے فرزند اور ڈیرہ بگٹی مین ٹاؤن کے رہائشی ہیں، جنہیں 29 اگست 2026 کو جبری لاپتہ کیا گیا تھا، جو 3 ستمبر 2026 کو بازیاب ہو کر ڈیرہ بگٹی پہنچ گئے۔
سعود بشیر : بشیر احمد کے فرزند اور الندور بلیدہ کے رہائشی ہیں، جنہیں 4 ستمبر 2026 کو اٹھایا گیا تھا اور وہ 5 ستمبر 2026 کو الندور بلیدہ میں اپنے گھر واپس پہنچ گئے ہیں۔
بلوچستان میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور بی وائی سی نے جبری گمشدگیوں کے مسلسل بڑھتے ہوئے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔