سرفراز بگٹی کا شورپارود کی آبادی کو دوسری جگہ منتقل کرکے فوجی آپریشن کا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان اسمبلی اجلاس میں کٹھ پتلی وزیراعلیٰ بلوچستان سرفرازبگٹی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ شورپارود کے پہاڑی سلسلے میں ایک ہزار افراد پر مشتمل آبادی کو وہاں سے منتقل کرکے کسی دوسری جگہ آباد کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ 1970 سے اب تک شورپارود کے پہاڑوں میں کبھی بھی فَراری کیمپ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ماضی میں وہاں امن قائم تھا، انہیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ امن کے ادوار میں بھی جنگ کی تیاریاں جاری رہتی رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مستونگ کے علاقے میں دہشت گردوں نے سیکیورٹی فورسز پر حملے کیے ہیں، سیکیورٹی فورسز گرے ایریا میں آپریٹ کرتی ہیں، میرے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر شیئر کیا گیا، سیاسی رہنما سیاسی سکورنگ کے لیے میرے بیان کو استعمال کرتے ہیں، کب کمانڈر 12 کور نے کہا کہ آپ بندوق اٹھا لیں؟

انہوں نے کہا کہ اگر پرائیویٹ پراپرٹی سے کوئی فائرنگ ہو رہی ہے تو اسے میں کیا سمجھوں؟ ریاست زمیندار سے دہشت گردوں کے حوالے سے معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کرتی ہے، میں کیسے مانوں کہ آپ کے باغات میں عسکریت پسند موجود ہوں اور آپ کو معلوم نہ ہو؟ مسلسل پرائیویٹ پراپرٹیز سیکیورٹی فورسز اور حکومتی نمائندوں کے خلاف استعمال ہو رہی ہیں، ریاست کی جانب سے حقوق ملنے سے پہلے ریاست سے وفاداری کرنی ہے، خیبرپختونخوا میں ڈویژنز کے ڈویژنز خالی ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کیا بلوچستان میں ایک گاؤں بھی خالی ہوا ہے؟ اپوزیشن لیڈر بتائیں، قلات کے قریب پہاڑی علاقہ عسکریت پسندوں سے خالی ہوا ہے؟ ایک ہزار لوگوں کو جگہ خالی کرنے کے لیے نوٹسز جاری کیے ہیں، ان لوگوں کو ریاست سہولیات فراہم کرے گی، میں شہداء کے لواحقین کو کیا جواب دوں؟ جب بھی دہشت گردی پر بات ہوتی ہے، کسی رکن نے کنسٹرکٹیو آپشن دیا ہے؟

انہوں نے کہا کہ میں سب کو ساتھ لے کر چلنے والا بندہ ہوں، بلوچستان حکومت ڈائیلاگ کے لیے تیار ہے، ریاست کے پاس دوسرا آپشن دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ہے، بلوچستان کے لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ جب بھی آپ کی پرائیویٹ پراپرٹی استعمال ہوگی تو اسے خالی کرنا پڑے گا، بلوچستان کے لوگوں سے درخواست ہے کہ اپنی پراپرٹی دہشت گردوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article