بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی مرکزی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے ایک اہم بیان میں بلوچستان کی واحد سنئیر پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض کی گرفتاری اور نا روا سلوک شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک سنئیر اور معزز شہری کی گرفتاری صرف ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ بلوچستان میں شہری اور جمہوری آزادیوں کو سلب کرنے کا بین ثبوت ہے۔
ڈکتر صبیحہ بلوچ نے کہا کہ حال ہی میں وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے مستونگ کے سیب کے باغات کو کاٹنے اور وہاں کے رہائشیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر کے آئی ڈی پیز (IDPs) بنانے کے آمرانہ اور غیر ذمہ دارانہ فیصلے پر ڈاکٹر عائشہ فیض سمیت باشعور شہریوں نے جائز آواز اٹھائی تھی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ یہ صرف درخت نہیں ہیں جنہیں آسانی سے کاٹ دیا جائے، بلکہ یہ سیب کے باغات مقامی لوگوں نے سالہا سال کی سخت محنت، سرمائے اور دیکھ بھال سے پروان چڑھائے ہیں۔ یہ باغات سینکڑوں خاندانوں کی روزی روٹی کا ذریعہ ہیں اور مقامی زرعی معیشت کی بنیاد ہیں۔ ان باغات کی تباہی کا مطلب لوگوں کا روزگار اور معاشی مستقبل تباہ کرنا ہے۔
رہنما بی یو سی کا مزید کہنا تھا کہ باغات کاٹنے کے عمل سے شدید ماحولیاتی بحران جنم لے گا۔ درخت زمین کی زرخیزی، حیاتاتی تنوع اور مقامی ماحول کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا خاتمہ زمین کے کٹاؤ، قدرتی مسکن کی تباہی اور ماحولیاتی خطرات میں اضافے کا باعث بنے گا۔ یہ محض درختوں کا تنازع نہیں بلکہ عوام کے روزگار، معاشی سیکیورٹی اور اپنے بنیادی حقوق کا معاملہ ہے۔
ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے کہا کہ ان سنگین خدشات کا جواب دینے کے بجائے انتظامیہ نے ایک سینئر اور معزز شہری کو ان کے گھر سے گرفتار کر لیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا:
"آخر ایک طاقتور حکومتی عہدیدار سے ایسے عوام دشمن فیصلے پر جواب دہی کیوں نہیں کی جاتی جو لوگوں کے روزگار اور زندگیوں کو تباہ کر سکتا ہے، جبکہ ان مظالم کے خلاف آواز اٹھانے والی ایک شہری کو سزا دی جا رہی ہے؟”
انہوں نے زور دیا کہ ڈاکٹر عائشہ فیض کی گرفتاری بلوچستان میں جاری جبر اور حکومتی عدم برداشت کو بے نقاب کرتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر عائشہ فیض کو فوراً رہا کیا جائے، ان کی عزت و احترام کو بحال کیا جائے اور حکومت باغات کی تباہی اور عوام کی جبرًا بے دخلی جیسے خدشات پر عوام کو جواب دہ ہو۔