جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاجی کیمپ جاری، ذیشان نیچاری کے لواحقین کی شرکت

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ جبری لاپتہ افراد کی بازیابی اور جبری گمشدگیوں کے خاتمے کے لیے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (VBMP) کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ آج بروز جمعہ 6348ویں روز بھی جاری رہی۔

اس دوران فیض امیر سمیت دیگر افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اور لاپتہ افراد کی لوحقین سے اظہار یکجہتی کیا۔

احتجاجی کیمپ میں جبری لاپتہ ذیشان نیچاری کے لواحقین نے شرکت کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

لواحقین نے کہا کہ ذیشان کو 2013 سے جبری طور پر لاپتہ ہے اور اس کا کیس کمیشن میں زیرِ سماعت ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ متعدد بار اعلیٰ حکام سے رابطہ کرچکے ہیں، تاہم اب تک ذیشان کو بازیاب نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی جارہی ہیں، جس کے باعث ان کا خاندان شدید کرب اور اذیت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

لواحقین نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ وہ ذیشان نیچاری کی بازیابی کے لیے فوری اقدامات کریں اور ان کے خاندان کو اس طویل اذیت سے نجات دلائیں۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے حکومت اور ملکی اداروں کے سربراہان سے مطالبہ کیا کہ جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو ملکی قوانین کے مطابق حل کرنے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے ذیشان نیچاری سمیت تمام جبری لاپتہ افراد کی بازیابی یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جن افراد پر کوئی الزام ہے انہیں منظرِ عام پر لاکر عدالت میں پیش کیا جائے اور انہیں قانونی چارہ جوئی کا حق دیا جائے۔

نصراللہ بلوچ نے کہا کہ جبری گمشدگیوں کے باعث متاثرہ خاندان طویل عرصے سے شدید ذہنی اذیت اور کرب کا سامنا کررہے ہیں، لہٰذا حکومت فوری اقدامات اٹھا کر ان خاندانوں کو اس اذیت سے نجات دلائے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article