پاکستانی فوج کا مستونگ، کوئٹہ، قلات اور سبی میں 36 مسلح افراد کو مارنے کادعویٰ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستانی فوج نے بلوچستان لے علاقے مستونگ، کوئٹہ، قلات اور سبی میں 36 مسلح افراد کو مارنے کادعویٰ کیا ہے ۔

پاکستان فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران تین روز میں 48 عسکریت پسندوں اور شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق گذشتہ 12 سے 24 گھنٹوں میں سکیورٹی فورسز نے مستونگ، کوئٹہ، قلات اور سبی کے اضلاع میں کالعدم تحریکِ طالبان اور بلوچ علیحدگی پسند گروپس کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر متعدد آپریشنز کیے۔

ان کارروائیوں میں 36 عسکریت اور شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے دعوے مطابق چار ستمبر کو مستونگ میں آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور ان کا مقابلہ کیا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں چھ عسکریت پسند ہلاک ہو گئے۔

قلات میں بھی انٹیلی جنس کی بنیاد پر ایک اور آپریشن کیا گیا۔ اس کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے ٹھکانے پر چھاپہ مارا اور دو شدت پسندوں کو ہلاک کیا۔

آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیاکہ ضلع سبی کے علاقے بھاگ میں سکیورٹی فورسز نے مقامی آبادی کے تعاون سے فوری ردِعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پولیس سٹیشن بھاگ پر عسکریت پسندوں کے حملے کی کوشش ناکام بنا دی۔ فائرنگ کے تبادلے میں 2 مسلح افرادمارے گئے۔

ماضی کی طرح آئی ایس پی آر نے محض پریس ریلیز پر اکتفا کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں متعدد مسلح افراد مارے گئے اور ان کے قبضے سے اسلحہ برآمد کر لیا گیا ہے۔ تاہم، روایت کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کی کوئی تفصیلی معلومات یا شناخت میڈیا کو فراہم نہیں کی گئی، اور نہ ہی اب تک بلوچستان کے کسی ہسپتال میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں مارے جانے والے افراد کی لاشیں لائی گئی ہیں۔

سیاسی و انسانی حقوق کے حلقوں کے مطابق، جب بھی بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیمیں پاکستانی فورسز کو شدید اور مہلک حملوں کا نشانہ بناتی ہیں جس میں فورسز کا جانی نقصان زیادہ ہوتا ہےتو آئی ایس پی آر فوری طور پر ہلاکتوں کے دعوے پر مبنی پریس ریلیز جاری کر دیتی ہے۔ ماضی کے متعدد واقعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایسے دعوؤں کے بعد ہلاک ظاہر کیے جانے والے افراد کی شناخت سیکیورٹی اداروں کی تحویل میں پہلے سے موجود "جبری لاپتہ” افراد کے طور پر ہوتی ہے، جنہیں دورانِ حراست قتل کر کے جعلی مقابلوں میں مسلح جنگجو کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article