ایران کے زیر انتظام بلوچ آبادی والے علاقے کوہستک (سیریک) میں منگل کی رات ساڑھے نو بجے ایک شادی کی تقریب پر امریکی کروز میزائل کا حملہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ایک بچے سمیت 4 افراد ہلاک اور 67 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
ایرانی ہلالِ احمر اور وزارتِ خارجہ نے اس واقعے کو "جنگی جرم” قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ ماہرین نے بھی حملے میں امریکی ساختہ میزائل کے استعمال کی تصدیق کر دی ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر حملے سے متاثرہ گھر کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ "ایران کے خلاف امریکہ کی غیر قانونی جنگ کی حقیقت اور جنگی جرم کا حقیقی چہرہ آشکار ہو گیا ہے۔”
دوسری جانب ایرانی ہلالِ احمر سوسائٹی نے دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کو خط لکھ کر واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ ہلالِ احمر نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ شہری اجتماع پر حملہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے اور زخمیوں کی تشویشناک حالت کے پیشِ نظر ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ تنظیم نے واقعے کی آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
بی بی سی ویریفائی (BBC Verify) کے مطابق، اسلحہ کے عالمی ماہرین نے ایرانی سرکاری ٹی وی سے نشر ہونے والی تصاویر کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی ہے کہ ملبے سے ملنے والا فِن (Fin) امریکی ساختہ ‘AGM-84 سٹینڈ آف لینڈ اٹیک میزائل’ (SLAM) کا حصہ ہے۔
آرمامنٹ ریسرچ سروسز کے ڈائریکٹر این آر جینزن جونز اور دفاعی تجزیہ کار ٹریور بال کا کہنا ہے کہ یہ ہوا سے داغا جانے والا طویل فاصلے کا انتہائی درست نشانہ لگانے والا ہتھیار ہے، جس کے استعمال کنندگان کی تعداد نہایت محدود ہے اور اس کا اہم استعمال کنندہ امریکہ ہے۔ ماہرین کے مطابق دورانِ پرواز اس کا ہدف بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ایران میں شادی کی تقریب پر حملے سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات سے آگاہ ہے اور واقعے کا نوٹس لیا گیا ہے، تاہم ان کا موقف ہے کہ امریکی افواج کبھی شہریوں کو براہِ راست نشانہ نہیں بناتیں۔