کوئٹہ و مستونگ سے مزید 4 بلوچ نوجوان جبری لاپتہ، جبکہ 3 مغوی بازیاب

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان میں پاکستانی فو ج اور سی ٹی ڈی کی جانب سے جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق سیکورٹی فورسز نے مختلف کارروائیوں میں مزید 4 بلوچ نوجوانوں کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے، جبکہ ماضی میں جبری لاپتہ کیے گئے 3 نوجوان بازیاب ہو کر اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق فورسز اور سی ٹی ڈی کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے نوجوانوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

امداد شاہوانی ولد رؤف شاہوانی(عمر 30 سال)، پیشے کے لحاظ سے دکاندار اور سکنہ کلی سردھے حاجی قاسم شاہوانی اسٹریٹ، کوئٹہ۔ امداد کو 30 اگست 2026 کو صبح 7:00 بجے ان کے گھر سے پولیس اور سی ٹی ڈی (CTD) نے حراست میں لے کر لاپتہ کیا۔

ثناء اللہ ولد محمد انور (عمر 25 سال) پیشے کے لحاظ سے مکینک اور سکنہ کلی کرک، مستونگ۔ ثناء اللہ کو 1 ستمبر 2026 کو صبح 9:00 بجے یالی مین روڈ کڈکوچہ، مستونگ سے فرنٹیئر کانسٹیبلری (FC) نے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا۔

شمروز شاہوانی ولد منیر احمد (عمر 18 سال) پیشے کے لحاظ سے محنت کش اور سکنہ کلی بلال مین گھنڈی، کوئٹہ۔ شمروز کو 12 مئی 2026 کو رات 9:00 بجے ان کے گھر سے سی ٹی ڈی اور پولیس نے حراست میں لے کر لاپتہ کیا۔

حذیف شاہوانی ولد نظام الدین (عمر 13 سال) طالبعلم اور سکنہ کلی بلال مین گھنڈی، کوئٹہ۔ 13 سالہ کمسن حذیف کو 7 اپریل 2026 کو رات کے 2:00 بجے ان کے گھر سے سی ٹی ڈی اور پولیس نے حراست میں لے کر جبری لاپتہ کیا۔

بازیاب ہونے والے لاپتہ افراد (3 نوجوان):

دوسری جانب بی وائی سی کے مطابق پاکستانی فورسز کے اذیت خانوں سے شدید جسمانی و نفسیاتی تشدد کا نشانہ بننے کے بعد 3 لاپتہ نوجوان بازیاب ہو کر واپس اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں:

سیف الدین بلوچ ولد محمد اقبال بلوچ، سکنہ کلی سراوان، خاران۔ سیف الدین کو 23 اگست 2026 کو کراچی سے جبری لاپتہ کیا گیا تھا جو 31 اگست 2026 کو کراچی سے ہی بازیاب ہو گئے۔

سعید احمد ولد عبد العزیز، سکنہ گولک، سوراب۔ سعید احمد کو 12 جولائی 2026 کو سوراب سے لاپتہ کیا گیا تھا جو 20 اگست 2026 کو مین آر سی ڈی روڈ سوراب پر بازیاب ہو گئے۔

خلیل احمد ولد محمد نور، سکنہ نگار، سوراب۔ خلیل احمد کو بھی 12 جولائی 2026 کو حراست میں لیا گیا تھا جو 25 اگست 2026 کو مین آر سی ڈی روڈ سوراب سے بازیاب کر دیے گئے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنے بیانات میں بلوچستان بھر سے روزانہ کی بنیاد پر شہریوں بالخصوص کمسن بچوں اور محنت کشوں کی جبری گمشدگیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اس انسانی بحران کا نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article