کوئٹہ اور ڈیرہ بگٹی سے ایک دکاندار، دو مزدوروں اور نوجوان سمیت مزید 4 افراد جبری لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان میں پاکستانی فوج کی جانب سے   جبری گمشدگیوں کے کارروائیوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ڈیٹا کے مطابق، کوئٹہ اور ڈیرہ بگٹی سے ایک دکاندار، دو محنت کشوں اور ایک نوجوان کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

تازہ جبری لاپتہ افراد کی تفصیلات:

صدام بگٹی ولد مہوات خان (عمر 40 سال) ساکن مین ٹاؤن ڈیرہ بگٹی۔ پیشے کے اعتبار سے دکاندار صدام بگٹی کو 29 اگست 2026ء کو شام 4:00 بجے ڈیرہ بگٹی کے نواب بازار سے آئی ایس آئی اور سی ٹی ڈی نے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا۔

محمد ناصر ولد عبد الکریم (عمر 23 سال) ، ساکن کیچی بیگ کلی بحریزئی، کوئٹہ۔ 23 سالہ غیر ملازم پیشہ نوجوان محمد ناصر کو 31 جولائی 2026ء کو رات 3:00 بجے ان کے گھر (کلی بحریزئی، کوئٹہ) سے آئی ایس آئی اور سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے اٹھا کر غائب کر دیا۔

مجید شاہوانی ولد علی اکبر، (عمر 28 سال) ساکن کیچی بیگ ڈمب سریاب، کوئٹہ۔ پیشے کے لحاظ سے مزدور مجید شاہوانی کو 26 اگست 2026ء کو رات 9:00 بجے کیچی بیگ ڈمب سریاب سے سی ٹی ڈی اور پولیس نے حراست میں لیا۔

عبدالرزاق ولد کبیر احمد، (عمر 17 سال) ساکن کیچی بیگ ڈمب سریاب، کوئٹہ۔ 17 سالہ کمسن مزدور عبدالرزاق کو بھی 26 اگست 2026ء کو رات 9:00 بجے کیچی بیگ ڈمب سریاب سے سی ٹی ڈی اور پولیس اہلکاروں نے مشترکہ کارروائی کے دوران جبری طور پر لاپتہ کیا۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی اور حقوقِ انسانی کے فعال حلقوں نے ریاستی اداروں کے اس عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تمام جبری لاپتہ شہریوں کو عدالتوں میں پیش کر کے ان کا قانونی حق دیا جائے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article